
سندھ طاس معاہدہ صرف دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ عالمی انصاف اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے: مصدق ملک
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے معاملے کو محض دوطرفہ تنازع کے بجائے عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقِ آب کے تحفظ کے ایک بین الاقوامی مسئلے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی فورمز پر اٹھایا ہے، جہاں پاکستان کے مؤقف کی توثیق کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار میں صرف معاہدے پر بات نہیں ہوگی بلکہ اس کے پس منظر میں موجود بنیادی اصولوں اور عالمی اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے ایک کسان "اقبال سولنگی” کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد کے قریب رہنے والے لاکھوں پاکستانی کسانوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی زندگیاں بار بار آنے والے سیلاب اور خشک سالی سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق 2010، 2012 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے اس کے گاؤں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ دیگر اوقات میں پانی کی شدید قلت کے باعث زمین میں اتنی دراڑیں پڑ گئیں کہ کاشتکاری ممکن نہ رہی۔
مصدق ملک نے کہا کہ اگرچہ ان مشکلات کو اکثر صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ایک اور اہم عنصر بھی موجود ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ کسانوں کو پانی ملے گا یا خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ایک نل ہے جس کا ہینڈل ہمارے ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے، جو کہتے ہیں کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں 20 سے 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی غذائی سلامتی، معیشت اور لاکھوں افراد کا روزگار دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے، اس لیے دریا کے بہاؤ سے متعلق فیصلے کسی دوسرے ملک کے اختیار میں نہیں ہونے چاہییں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان یہی مؤقف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر رہا ہے، جن میں حالیہ برسلز میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بالائی دھارے کے ممالک کو زیریں دھارے کے ممالک کا پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں ردوبدل کرنے کی اجازت دے دی گئی تو دنیا بھر کے بین الاقوامی دریائی نظام اس سے متاثر ہوں گے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسپین نے کبھی پرتگال کو پانی کی فراہمی روکی ہے یا یورپ میں مشترکہ دریاؤں سے وابستہ ممالک نے زیریں دھارے کے ممالک کا پانی بند کیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا طرزِ عمل قابل قبول قرار دیا گیا تو دنیا کے تمام سرحدی دریاؤں پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔
مصدق ملک نے کہا کہ مجوزہ کانفرنس صرف سندھ طاس معاہدے پر نہیں بلکہ انصاف اور بنیادی حقوق کے اصولوں پر بھی مرکوز ہوگی۔ ان کے بقول، یہ کانفرنس اس سوال کا جواب تلاش کرے گی کہ آیا دنیا بھر میں زیریں دھارے میں رہنے والے بچوں کو پانی تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صحافیوں اور عالمی برادری کے سامنے اس معاملے کے قانونی، تکنیکی اور معاہداتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دریاؤں سے متعلق عالمی قوانین اور کنونشنز کی بھی وضاحت کرے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی امن کی بنیاد بین الاقوامی معاہدوں اور اصولوں پر رکھی گئی تھی، اور اگر ان معاہدوں کو نظر انداز کیا گیا تو عالمی قوانین پر مبنی نظام کمزور پڑ جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ خدشات موجود تھے کہ "رن آف دی ریور” پن بجلی منصوبوں کے ذریعے اہم زرعی موسم میں عارضی طور پر پانی روک کر زیریں علاقوں کی فصلوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فیصلوں میں پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ایسے منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی تکنیکی حدود موجود ہیں اور اس میں غیر محدود اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ اگرچہ پانی کو مستقل طور پر نہیں روکا جا سکتا، لیکن قلیل مدت کی رکاوٹ بھی زرعی ضروریات کے لیے درکار پانی کے بروقت بہاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔
مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے ذخائر میں اضافہ کرے اور پانی کے موسمی بہاؤ کو مؤثر انداز میں منظم بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کا مقصد صرف پانی ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ کسانوں کو ضرورت کے وقت پانی کی فراہمی یقینی بنانا بھی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے سیلابوں کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں چلا جاتا ہے، جبکہ کاشت کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور اس کے مؤثر انتظام سے متعلق منصوبوں پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں، کیونکہ یہ معاملہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک بھر کے کسانوں اور عوام کے مفاد سے وابستہ ہے۔
دیامر بھاشا اور داسو ڈیموں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تفصیلات وزارتِ آبی وسائل کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، تاہم پاکستان صرف بیرونی مالی معاونت پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ اپنے وسائل سے بھی ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ قرضوں کی ادائیگی اور آئینی مالی تقسیم کے باعث وفاقی ترقیاتی وسائل محدود ہیں، تاہم ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور حکومت ان منصوبوں کی رفتار اور مالی وسائل دونوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ پانی سے متعلق امور پر سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے اور سندھ طاس معاہدے کے حالیہ تناظر میں اس میں مزید تیزی آئے گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرتا رہے گا اور دنیا کو صرف پاکستان کا مؤقف سننے کی نہیں بلکہ اس پر سوال اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب تمام سوالات ختم ہو جائیں تو پھر خود فیصلہ کیجیے کہ کیا یہی انصاف ہے۔”