
آپریشن "غضبُ للحق” کے تحت افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر مؤثر کارروائیاں، 29 دہشت گرد ہلاک: عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن "غضبُ للحق” کے تحت افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کارروائیاں 28 اور 29 جون کی درمیانی شب کراچی میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے، جبکہ وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود کے بڑے ذخائر بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن "غضبُ للحق” کو مزید وسعت دی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دو روز قبل کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر دہشت گرد حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا تھا، تاہم اس حملے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے اور ایک زخمی دہشت گرد، جس کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی، گرفتار کر لیا گیا۔ عسکری حکام نے اس حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار پر عائد کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
وفاقی وزیر کے مطابق آپریشن کے پہلے مرحلے میں 28 جون کو ضلع باجوڑ میں پاک۔افغان سرحد کے قریب انٹیلی جنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی گئی، جس میں چار دہشت گرد مارے گئے، جن میں مبینہ اہم کمانڈر خان فروش عرف زبل بھی شامل تھا، جبکہ متعدد دیگر دہشت گرد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد 28 اور 29 جون کی درمیانی شب افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں دہشت گردوں کے تین اہم ٹھکانوں پر انتہائی درستگی کے ساتھ حملے کیے گئے، جن میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس طرح آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 29 ہوگئی، جبکہ دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ پناہ گاہوں میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ "عزمِ استحکام” حکمت عملی کے تحت ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت اور رفتار کے ساتھ جاری رہیں گی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "فتنہ الخوارج” حکومتِ پاکستان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے، جبکہ جماعت الاحرار اسی تنظیم کا ایک منحرف دھڑا ہے۔