
مون سون سے نمٹنے کے لیے قومی ہنگامی ردِعمل کا نظام قائم کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز وفاقی اور صوبائی حکام کو آئندہ مون سون سیزن کے پیش نظر تیاریوں کو مزید مؤثر اور تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے قومی سطح پر ہنگامی ردِعمل کا نظام قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے مون سون کی تیاریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، لہٰذا قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جامع اور مؤثر اشتراکِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے قیام کی منظوری بھی دی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کریں گے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق کمیٹی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں گے، جو صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کریں گے اور مون سون کے پورے موسم کے دوران ہر ہفتے اجلاس منعقد کرکے تیاریوں اور امدادی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ شدید مون سون آفات کی صورت میں فوری استعمال کے لیے ہنگامی فنڈ کے پیشگی انتظامات مکمل کیے جائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرائے دفاع خواجہ محمد آصف، خزانہ محمد اورنگزیب، منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ، قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین واپڈا، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے رواں ہفتے تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہنگامی دورے کریں تاکہ مون سون سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں قومی اور مقامی اداروں کی ادارہ جاتی اور تکنیکی استعداد کار میں اضافے کو بھی ترجیح دی جائے۔
وزیراعظم نے آبی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بڑے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اضافی 330 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
گزشتہ سیلابی بحرانوں سے حاصل ہونے والے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو سیلاب سے بچاؤ کے جامع لائحہ عمل پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کی ہدایت کی۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ دریاؤں کے بہاؤ اور سیلابی گزرگاہوں میں قائم غیرقانونی تجاوزات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور بالخصوص ان اضلاع میں رکاوٹیں دور کی جائیں جو سیلاب کے حوالے سے زیادہ حساس قرار دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ مون سون کے دوران عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام انتظامی اور تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے شرکاء کو مون سون سے متعلق حکومتی تیاریوں، متوقع موسمی صورتحال، سیلاب کے خطرات اور موسمیاتی رجحانات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہروں اور غیرمعمولی موسمی حالات کا امکان ہے، جبکہ پاکستان میں جولائی کے دوران طویل دورانیے کی ہیٹ ویوز اور معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث حساس علاقوں میں سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ جامع حکمت عملی کے تحت تمام ضروری احتیاطی اور ہنگامی اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے تاکہ ممکنہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔