
وزیراعلیٰ مریم نواز کی پیرا کو عوام دوست طرزِ عمل اپنانے کی ہدایت
لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کو عوام دوست طرزِ عمل اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں کو ہراساں کرنے، تکبر اور کرپشن کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سول سیکرٹریٹ میں پیرا کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ انفورسمنٹ کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ریکوزیشن کو لازمی بنایا جائے، عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے "Ask PERA” پورٹل کو مزید فعال کیا جائے اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کو مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیرا میں لوگوں سے "اپنا سامان اٹھاؤ اور یہاں سے چلے جاؤ” جیسے غیر مناسب رویے کی کوئی گنجائش نہیں۔ وزیراعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پیرا کی ساکھ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور جو افسران شہریوں کو خوفزدہ کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں، ان کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پیرا کی 99 فیصد سزا کی شرح ادارے کی مؤثر کارکردگی کا مظہر ہے، تاہم انفورسمنٹ کی کامیابی عوام کے اعتماد کی قیمت پر حاصل نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے انسداد تجاوزات کی کارروائیوں سے قبل متاثرہ افراد کو نوٹس اور پیشگی انتباہ جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ نے مزید حکم دیا کہ انسداد تجاوزات اور پرائس کنٹرول مہمات کے علاوہ تمام انفورسمنٹ کارروائیاں پیشگی ڈیجیٹل ریکوزیشن کی بنیاد پر کی جائیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقاتی افسران کے تبادلے کسی کی سفارش پر نہیں کیے جائیں گے تاکہ تحقیقات کا عمل شفاف اور غیر جانبدار رہے۔
وزیراعلیٰ کی یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ ہفتوں میں انہوں نے پیرا اہلکاروں کے لیے 30 جون تک باڈی کیمرے پہننا لازمی قرار دینے کا حکم بھی دیا تھا، جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔