مراکش

مراکش اور متحدہ عرب امارات کو مذہبی آزادی و بقائے باہمی کے فروغ پر پہلا "امریکا 250 فاؤنڈرز پرومس ایوارڈ” عطا

Read Time:3 Minute, 17 Second

واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: مراکش اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ممالک بن گئے ہیں۔ دونوں ممالک کو مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانی وقار کے فروغ میں نمایاں کردار پر پہلا "امریکا 250 فاؤنڈرز پرومس ایوارڈ” دیا گیا۔

یہ ایوارڈز واشنگٹن میں امریکی سینیٹ میں منعقدہ "امریکا 250: مذہبی آزادی کے ورثے اور وعدے کی تعمیر” فورم کی اختتامی تقریب کے دوران پیش کیے گئے۔ دو روزہ فورم 16 سے 17 جولائی تک انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (IRF) پیس بلڈرز فورم کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں امریکی کانگریس کے اراکین، حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں، مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور مذہبی آزادی، بین المذاہب مکالمے اور عالمی امن کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

منتظمین کے مطابق "امریکا 250 فاؤنڈرز پرومس ایوارڈ” امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی مناسبت سے متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد ان ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو مذہبی آزادی، مساوی شہریت، اقلیتوں کے حقوق، انسانی وقار اور امن و بقائے باہمی کے فروغ میں غیرمعمولی قیادت کا مظاہرہ کریں۔

مراکش کو امریکا کے ساتھ تاریخی تعلقات اور مذہبی اعتدال، قومی یکجہتی، مساوی شہریت اور مذہبی و ثقافتی تنوع کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات پر اس اعزاز سے نوازا گیا۔ انتخابی کمیٹی نے یاد دلایا کہ مراکش 1777 میں امریکا کی آزادی کو تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک تھا، جب سلطان محمد سوم نے امریکی انقلابی جنگ کے دوران مراکشی بندرگاہیں امریکی جہازوں کے لیے کھول دی تھیں۔

کمیٹی نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو 1786 میں مراکش کے شہر مراکش میں طے پانے والے معاہدۂ امن و دوستی کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی، جس پر جان ایڈمز اور تھامس جیفرسن نے دستخط کیے، جبکہ امریکی کانگریس نے 1787 میں اس کی توثیق کی۔ یہ معاہدہ آج بھی امریکا کی تاریخ کا سب سے طویل عرصے سے مسلسل برقرار رہنے والا دوطرفہ معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کو مذہبی رواداری، بین المذاہب مکالمے اور پُرامن بقائے باہمی کے قومی ماڈل، مؤثر ریاستی پالیسیوں، ادارہ جاتی اقدامات اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والے منصوبوں کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا۔ منتظمین نے انسانی ہمدردی پر مبنی سفارت کاری اور مختلف اقوام و برادریوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے میں امارات کے کردار کو بھی سراہا۔

فورم سے امریکی سینیٹر جم لنکفورڈ، سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین جم رش، امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جمہوریت، انسانی حقوق و محنت رائلی بارنز اور برطانوی ایوانِ لارڈز کے رکن لارڈ رالس راک نے بھی خطاب کیا۔

تقریب کے دوران ابوظہبی فورم فار پیس کے سیکریٹری جنرل سفیر شیخ المحفوظ بن بیہ نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی شہریت کے فروغ کے لیے فورم کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مراکش اور متحدہ عرب امارات کو امن، مذہبی تکثیریت اور بقائے باہمی کے عالمی نمونے قرار دیا۔

انہوں نے 2016 کے تاریخی اعلانِ مراکش (Marrakech Declaration) کا بھی حوالہ دیا، جو مراکش کی وزارت اوقاف و اسلامی امور اور ابوظہبی فورم فار پیس کے اشتراک سے جاری کیا گیا تھا۔ اس اعلامیے کی 120 سے زائد ممالک کے 250 سے زیادہ مسلم علما نے توثیق کی، جبکہ بعد ازاں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اسے منظور کیا۔ اعلامیے میں میثاقِ مدینہ کے اصولوں کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق، مساوی شہریت، مذہبی تنوع اور مسلم اکثریتی معاشروں میں پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کا اعادہ کیا گیا۔

منتظمین کے مطابق مراکش اور متحدہ عرب امارات کو یہ اعزاز دینا اس امر کا مظہر ہے کہ عالمی برادری مذہبی آزادی، مکالمے، رواداری اور جامع معاشروں کے فروغ کے لیے ان ممالک کے قومی ماڈلز کو عالمی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے ایک مؤثر مثال کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسحاق ڈار Previous post نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام سے اجلاس، سفارتی ترجیحات اور آئندہ مصروفیات کا جائزہ
اسپین Next post سپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کا ٹائٹل جیت لیا