صحارا

امریکہ کا مغربی صحارا تنازع کے دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول سیاسی حل کے عزم کا اعادہ

Read Time:2 Minute, 32 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر مسعد بولوس نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار روزمیری ڈی کارلو سے ملاقات کے بعد مغربی صحارا تنازع کے دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول سیاسی حل کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

مسعد بولوس نے کہا کہ روزمیری ڈی کارلو کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مغربی صحارا تنازع، لیبیا اور سوڈان کی صورتحال سمیت خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ مغربی صحارا کے معاملے پر فریقین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2797 کے مطابق دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکہ کے اس مؤقف کا اعادہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی صحارا تنازع کے حوالے سے مراکش کے مؤقف اور اس کے خودمختاری منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ متعدد ممالک نے سیاسی تصفیے کی بنیاد کے طور پر مراکش کے خودمختاری منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مراکش مغربی صحارا کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے اپنے خودمختاری منصوبے کو سب سے قابلِ اعتماد فریم ورک قرار دیتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے تحت سیاسی حل کے لیے حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتا ہے۔

امریکہ ماضی میں بھی مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کرچکا ہے۔ دسمبر 2020 میں واشنگٹن نے باضابطہ طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کیا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مراکش کے خودمختاری منصوبے کو تنازع کے ’’منصفانہ، دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول‘‘ حل کی بنیاد قرار دیا تھا۔

امریکہ نے مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں جاری سیاسی عمل کی حمایت بھی برقرار رکھی ہے۔

ملاقات کے دوران مسعد بولوس نے لیبیا کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے ملک میں متحد سیاسی، سلامتی اور اقتصادی اداروں کے قیام کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا۔

سوڈان کے حوالے سے امریکی عہدیدار نے جاری تنازع اور سنگین انسانی بحران کے پیش نظر فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ متاثرہ آبادی تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔

مسعد بولوس نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مسلسل شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہے۔

ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن شمالی افریقہ اور وسیع تر خطے کو درپیش اہم سیاسی، سلامتی اور انسانی چیلنجز کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیاں اور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں مغربی صحارا تنازع، لیبیا کا سیاسی عمل اور سوڈان کا جاری بحران شامل ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
برکس Previous post برکس ممالک کے اہم معدنی و توانائی وسائل سبز صدی کی بنیاد ہیں: انڈونیشین صدر
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تعاون کے عزم کا اعادہ