
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، پارلیمنٹ نے قانون منظور کر لیا
پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی پر پابندی سے متعلق قانون کی منظوری دے دی ہے، جسے بچوں کے آن لائن تحفظ کو مضبوط بنانے کی قومی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بل فرانسیسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی، سے منظوری حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر قانون بن گیا ہے۔
فرانسیسی حکومت نے اس قانون کو نوجوانوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کی جانب ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
فرانس کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور این لی ہیناف نے اس پیش رفت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ فرانس بچوں کے تحفظ کے لیے کم از کم ڈیجیٹل عمر کی حد مقرر کرنے والا یورپ کا پہلا ملک بن جائے گا۔
نئے قانون کے تحت فرانس ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ یہ فیصلے آن لائن تحفظ، نقصان دہ مواد، سائبر بُلیئنگ اور سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نوجوانوں پر منفی اثرات سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ضروری انتظامی اور تکنیکی اقدامات مکمل ہونے کے بعد یہ پابندیاں نئے تعلیمی سال کے آغاز، یعنی ستمبر سے نافذ العمل ہونے کی توقع ہے۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد بچوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ بنانا، ان کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنانا اور کم عمر صارفین کے لیے صحت مند اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینا ہے۔