
ویتنام کے صدر مملکت نے سماجی بہبود، عدالتی اصلاحات اور قانونی شفافیت کے لیے تین نئے آرڈیننس نافذ کر دیے
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے تین اہم آرڈیننس باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں۔ صدارتی دفتر نے ہفتہ کے روز ہنوئی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اس کا اعلان کیا۔
نئے آرڈیننس میں انقلابی خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ترجیحی مراعات، 12 سے 18 سال کی عمر کے منشیات کے عادی افراد کی لازمی بحالی سے متعلق عدالتی طریقہ کار، اور مقدمات کے اخراجات سے متعلق قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد سماجی تحفظ کو مضبوط بنانا، عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا اور قانونی شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
انقلابی خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ترجیحی مراعات سے متعلق آرڈیننس کے تحت مستحق افراد کی اقسام میں توسیع کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو مساوی اور منصفانہ بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ آرڈیننس میں یہ اصول بھی متعین کیا گیا ہے کہ قومی خدمات انجام دینے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کا معیارِ زندگی کم از کم اپنے مقامی معاشرے کی اوسط سطح سے بہتر ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ شہداء کے اہل خانہ اور انقلابی خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے رہائشی سہولت کو ملک کی سماجی و معاشی صورتحال کے مطابق مستقل پالیسی کا درجہ دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق جنگی معذور افراد کے انتقال کی صورت میں، اگر ان کی معذوری کی شرح 81 فیصد یا اس سے زیادہ ہو تو انہیں شہید قرار دینے کے لیے مزید طبی جانچ کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ 61 سے 80 فیصد معذوری رکھنے والوں کے لیے موجودہ جانچ کا طریقہ برقرار رہے گا۔
آرڈیننس کے تحت جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے کے دوران زخمی یا جاں بحق ہونے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مجاز فورسز کے اہلکاروں کو بھی شہداء اور جنگی معذوروں کی مراعات کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں قومی دفاع اور سلامتی سے متعلق فرائض انجام دینے والے افراد کے لیے بھی اہلیت کے معیار کو وسیع کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ جہاں سرکاری دستاویزات نامکمل ہوں لیکن تاریخی اور حقیقی شواہد موجود ہوں، وہاں خصوصی بنیادوں پر خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔
دوسرے آرڈیننس کے تحت 12 سے 18 سال کی عمر کے منشیات کے عادی افراد کی لازمی بحالی سے متعلق عدالتی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر بنایا گیا ہے۔ عدالتوں کو بحالی کے احکامات مؤخر کرنے، معاف کرنے، عارضی طور پر معطل کرنے یا مدت میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ شکایات، سفارشات اور اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
عدالتی کارروائی کو تیز تر بنانے کے لیے ابتدائی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر کی عدم موجودگی میں بھی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اپیل کی سماعت میں پراسیکیوٹر کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں عدالت کارروائی ملتوی کرے گی۔
تیسرے آرڈیننس کے تحت مقدمات کے اخراجات سے متعلق قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے ایسے متاثرین کو بھی تشخیصی اخراجات میں رعایت یا استثنا دینے کی شق شامل کی گئی ہے جنہیں ریاستی معاوضہ ذمہ داری کے قانون کے تحت نقصان کا تخمینہ درکار ہو۔
فوجداری مقدمات میں فرانزک معائنے کے اخراجات میں رعایت یا استثنا کے دائرہ کار کو بھی ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات کے مطابق وسعت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دیوالیہ پن اور کاروباری تنظیمِ نو کے مقدمات میں، جہاں اخراجات ریاستی بجٹ سے ادا کیے جائیں، وہاں دیوالیہ پن کے اخراجات کے تعین، پیشگی ادائیگی، ادائیگی کے طریقہ کار اور پیشگی رقوم کے استعمال سے متعلق واضح قواعد بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
ویتنامی حکام کے مطابق یہ تینوں آرڈیننس ملک کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، قومی خدمات انجام دینے والے افراد کے سماجی تحفظ کو بہتر بنانے، کم عمر افراد سے متعلق عدالتی کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور مقدمات و دیوالیہ پن کے معاملات میں شفافیت اور انتظامی کارکردگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔