مادرملت

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی قومی وملی خدمات

Read Time:4 Minute, 45 Second

زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کوہمیشہ یادرکھتی ہیں اوران کے افکارو نظریات کی روشنی سے ہی اپنی راہ عمل کی سمت طے کرکے ہر میدان میں سرخرو وسربلند رہتی ہیں اور آج پاکستانی قوم بھی اپنے ان ہی محسنوں میں سے ایک عظیم شخصیت مادرملت محترمہ فاطمہ جناح ؒکو یاد کر رہی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔

آج سے133سال پہلے آج ہی کے دن 31جولائی کو آئین جواں مرداں، حق گوئی وبیباکی کی عملی تصویر اور جمہوریت کی وہ شمع روشن ہوئی جس نے ایک مایوس اور شکستہ روح وقلب قوم کو ولولہ تازہ عطا کیا اور ایک مہربان وشفیق ماں کے روپ میں اس قوم کی انگلی پکڑ کر انہوں نے اسے ایک عظیم قوم کی شکل میں ڈھال دیا۔ مادرملت کااس قوم پر جو سب سے بڑا احسان ہے وہ ہندوستان کی مسلم خواتین میں قومی و ملی شعورطکی بیداری و آبیاری، قومی معاملات میں ان کو موثر شرکت کی ترغیب دینا اوریہ اسی فکری تربیت کا نتیجہ تھا کہ ان خواتین نے نہ صرف تحریک پاکستان کے دوران بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی سیاسی، سماجی، اور معاشرتی فلاح وبہبود کے میدان میں بیمثال خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے مسلم خواتین میں اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی سرگرم عمل ہونے کا احساس اجاگر کیا اور یہ انہی کی مدبرانہ تحریک کا نتیجہ تھاکہ جب قوم نے اپنی خواتین کو میدان عمل میں نکلنے کے لیے پکارا تو وہ دیوانہ وار نکلیں اور پورے ہندوستان کے ہر قریے، ہرگاؤں اور ہر شہر میں پھیل گئیں اور ان کی انتھک محنت اور جانفشانی سے مسلم لیگ کا پیغام، ”لے کے رہیں گے پاکستان اور بٹ کے رہے گا ہندوستان اور مسلم ہے تومسلم لیگ میں آ” پورے ہندوستان میں گھونجنے لگا۔ ہندوستان کی مسلم قوم کے لیے وہ لمحات بہت کٹھن اور صبرآزما تھے اور اس کے مستقبل کے بار ے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو اس وقت مادرملت نے تمام مسلم قوم اور بالخصوص خواتین کو متحرک کیا جنہوں نے تحریک پاکستان میں ہراول دستے کا کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم کی امیدیں برآئیں اورہندوستان کا چپہ چپہ ان مسلم خواتین کی کوششوں سے تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد سے بہرومند ہوا اور ہر کسی کی زبان پہ ایک ہی لفظ "پاکستان” تھا اور بہت ہی کم عرصے میں اس کا ثمر مسلم قوم کے لیے ایک محفوظ سائبان کی صورت میں سامنے آیا۔

مادرملت نے گوکہ انگریزی سکولوں میں تعلیم حاصل کی لیکن وہ مشرقی لبادے میں لپٹی ہوئی ایک باوقار، بارعب اور راسخ العقیدہ مسلمان ہی رہیں۔ وہ ایک غیرت مند، محب وطن، اصول پسندی جیسی صفات سے مالامال تھیں اور ان جیسی بلندہمت اور نڈر و دلیر شخصیت کسی قوم میں صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ قائداعظمؒ بھی اپنی اس عظیم بہن کی خدمات کے معترف تھے وہ کہا کرتے تھے کہ "وہ میرے لیے اس وقت امید، ہمت اور معاون کار کا ایک مستقل ذریعہ ثابت ہوئیں جب ہم ایک بڑے انقلات سے ہمکنار ہو رہے تھے۔”

کسی بھی قوم کے کردار وعمل میں اس کے راہنماؤں کی شخصیت کی جھلک اور اس کے اثرات ضرور موجود ہوتے ہیں اورحقیقی قومی راہنماء وہی ہوتا ہے جس کی اپنی قوم کی نبض پر انگلیاں ہوں اور اس کے ہر گوشے پر اس کی نظر ہو اور اسے قوم کے جذبات و احساسات کا ادراک ہو اور اس حوالے سے مادرملت کی شخصیت میں نہ صرف پاکستانی خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید کامل نمونہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آیا کہ اس کی راہنمائی کے لیے قحط الرجال کی کیفیت تھی تو یہ مادرملت ہی تھیں جنہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود سامنے آکر پاکستانی قوم کی متأثرکن انداز سے قیادت کی۔

مادرملت ہندوستان کی مسلم خواتین کیساتھ ساتھ ملحقہ ریاستوں خاص طورپہ ریاست جموں وکشمیر کی خواتین کو بھی نہیں بھولیں اورانہیں بھی تحریک پاکستان اور تحریک الحاق پاکستان میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کیا۔ جنگ کشمیر1947ء کے آغاز میں ہی انہوں نے کشمیری مجاہدین کی مدد واعانت کے لیے کشمیر فنڈ قائم کیا۔ یہ مادرملت کی شخصیت کی سحرآفرینی تھی کہ کشمیری خواتین نے ریاست میں تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔

مادرملت جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے سرگرم رہیں اور ان کے اسی حق کے لیے کشمیری خواتین کے ساتھ اقوام متحدہ کے کمشن برائے ہندوستان وپاکستان کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار بھی ہوئیں۔ 9جولائی 1967ء کوجب ان کا انتقال ہوا توجہاں پاکستانی قوم اپنی ایک عظیم المرتبت راہنماء سے محروم ہوئی وہیں کشمیری عوام وخواتین بھی اپنی ایک غمگسار اور ہمدرد محسنہ کی شفقت وراہنمائی سے بھی محروم ہوگئے۔

جو قومیں آزمائش کے وقت ڈھارس بندھانے اور اس امتحان میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز کروانے والی ہستیوں کو بھلا دیتی ہیں اس قوم میں عظیم ہستیوں کے پیدا ہونے کا سلسلہ موقوف ہوجاتاہے۔ آئیے ہم اپنے آپ کوان احسان فراموش قوموں میں شامل نہ کریں اور مادرملت کی قربانیوں اور ان کے احسانات کو یاد رکھیں جوانہوں نے ہندوستان میں بکھری ہوئی اور منتشر مسلمان قوم کوایک مرکز پہ جمع کرکے اسے اسلام کی نشاہ ثانیہ اور اس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کی عظیم جدوجہد کے لیے تیار کیااور اس کی درست سمت میں راہنمائی بھی کی۔ پاکستانی وکشمیری قوم ہمیشہ ان کی ممنون واحسان رہے گی۔ یہ چندالفاظ، چندسطوراور چند اوراق سے ان کی شاندار شخصیت، پاکستانی قوم اور خاص طورپر خواتین کے لیے ان کے بیمثال کردار اور ان کی ولولہ انگیزخدمات کا احاطہ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن مختصر الفاظ میں پاکستانی وکشمیری قوم ہمیشہ ان کی ممنونِ احسان رہے گی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو رہے گی!!!!

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی بینک رپورٹ کا جامع جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا اور ناروے کی ماحولیاتی شراکت داری مزید مضبوط، جنگلات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اہم پیش رفت