
مراکش نے فلسطین کی بھرپور حمایت کا اعادہ، القدس میں کشیدگی بڑھانے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش نے فلسطینی عوام کے جائز حق کی ایک بار پھر بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مشرقی القدس کو دارالحکومت بنائے جانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اظہار کیا ہے، جبکہ القدس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف خبردار کیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق مراکش نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور دو ریاستی حل کی اپنی دیرینہ پالیسی کو دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے، جس میں مشرقی القدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔
مراکش نے القدس میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات جو شہر کے تاریخی، قانونی اور مذہبی تشخص کو متاثر کریں یا کشیدگی میں اضافہ کریں، خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ بیان میں فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کریں اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام یقینی بنائیں۔
مراکش نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین، شاہ محمد ششم کی سربراہی میں قائم القدس کمیٹی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اور مملکت فلسطینی عوام کے حقوق، القدس کے تاریخی تشخص کے تحفظ اور خطے میں منصفانہ و پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گی۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ذمہ دارانہ کردار ادا کرے، کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرے اور ایسے حالات پیدا کرے جو فلسطین۔اسرائیل تنازع کے منصفانہ اور جامع حل کی راہ ہموار کر سکیں۔