ویتنام

ماضی کی نسلوں کو بہترین خراجِ تحسین مضبوط اور خوشحال ویتنام کی تعمیر ہے: تو لام

Read Time:5 Minute, 20 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام نے کہا ہے کہ سابقہ نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بامعنی طریقہ موجودہ نسل کی ذمہ داری اور عملی اقدامات ہیں، جن کے ذریعے ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ویتنام کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سابق پولٹ بیورو اور سیکریٹریٹ ارکان اور مختلف ادوار کے رہنماؤں، جبکہ 13ویں مدت کی مرکزی کمیٹی کے ان ارکان کے اعزاز میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو 14ویں مدت میں اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ رہے۔ یہ تقریب 19 اگست کو اگست انقلاب کی 81ویں سالگرہ اور 2 ستمبر کو قومی دن کی مناسبت سے ہو چی منہ آرڈرز، آزادی کے اعزازات اور پارٹی رکنیت کے بیجز پیش کرنے کے لیے بھی منعقد کی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم لی من ہنگ نے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ویتنام کی سماجی و اقتصادی صورتحال اور پارٹی کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات، جبکہ سال کی دوسری ششماہی اور آئندہ مدت کے لیے اہم ترجیحات پر رپورٹ پیش کی۔

شرکاء نے ملکی صورتحال پر کھل کر اور جامع تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ان خطرات اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور قومی یکجہتی کے فروغ، پارٹی کی تنظیم و تعمیر اور ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، قومی ترقی کو تیز کرنے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے۔

جنرل سیکریٹری و صدر تو لام نے سابق پارٹی و ریاستی رہنماؤں کی اہم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف عہدوں اور ادوار میں ان رہنماؤں نے ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل، انقلابی کامیابیوں کے تحفظ، ’’دوئی موئی‘‘ (اصلاحات) کے عمل اور بین الاقوامی انضمام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور ملک کی موجودہ ترقی کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 81 برسوں، بالخصوص ’’دوئی موئی‘‘ کے چار دہائیوں پر محیط عمل کو دیکھا جائے تو ویتنام کو پارٹی کی قیادت، آنجہانی صدر ہو چی منہ کی میراث اور ویتنامی عوام کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ترقی اور صلاحیت پر بجا طور پر فخر ہے۔

تو لام نے کہا کہ جنگ سے تباہ حال اور ناکہ بندی و پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک ویتنام نے آج ترقی پذیر اور بالائی متوسط آمدنی رکھنے والے ملک کی حیثیت حاصل کرلی ہے، جو عالمی برادری میں گہرائی سے ضم ہوچکا ہے، جبکہ قومی دفاع و سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنا مقام اور اثر و رسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں پارٹی کی قیادت، قومی اتحاد کی طاقت اور ویتنامی عوام کی کئی نسلوں کی ذہانت، محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں، جن میں سابق پارٹی و ریاستی رہنماؤں کا کردار بھی نمایاں ہے۔

جنرل سیکریٹری نے زور دیا کہ مستقبل کے چیلنجز اطمینان یا تذبذب کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ 14ویں قومی پارٹی کانگریس کی قرارداد پر عملدرآمد کے لیے ویتنام کو پالیسی سازی سے عملی اقدامات، تنظیم نو سے اداروں کی مؤثر کارکردگی اور سیاسی عزم سے ایسے ٹھوس نتائج کی جانب مضبوط پیش رفت کرنا ہوگی جنہیں عوام دیکھ، محسوس اور ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے پارٹی کی جامع قیادت کو مزید مضبوط بنانے اور قیادت و حکمرانی کی صلاحیت بہتر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی خودمختاری اور سوشلزم کے اصولوں کو برقرار رکھا جائے اور پارٹی کے اصولوں، سیاسی پروگرام، پارٹی دستور اور قومی مفادات کی بنیاد پر اتحاد کو مضبوط بنایا جائے۔

تو لام نے کہا کہ بالخصوص اعلیٰ عہدیداروں کو مثالی کردار ادا کرنا، دیانت داری برقرار رکھنا، ذمہ داری قبول کرنا اور اجتماعی مفاد کے لیے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایک مختصر، مضبوط اور مؤثر ریاستی ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہر ذمہ داری کے لیے واضح اہداف، ذمہ داریاں، مدت، وسائل اور متوقع نتائج کا تعین کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کو تیزی سے پیداواریت، علم، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل سے تقویت دی جانی چاہیے۔ تیز رفتار اقتصادی ترقی کے ساتھ پائیداری، لچک اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو یقینی بنایا جائے اور عالمی ویلیو چینز میں ویتنام کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جائے۔

پارٹی رہنما نے کہا کہ تمام پالیسیوں کا مرکز عوام کو برقرار رکھا جانا چاہیے اور قومی ترقی کا مقصد عوام کے جائز مفادات کا تحفظ اور انہیں ملکی ترقی کے ثمرات میں منصفانہ حصہ دینا ہونا چاہیے۔

انہوں نے قومی خدمات انجام دینے والے افراد پر مزید توجہ دینے اور شہید فوجیوں کی باقیات کی تلاش، بازیابی اور شناخت کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا۔

تو لام نے کہا کہ نئے دور میں قومی آزادی اور خود انحصاری کا تصور معیشت، ٹیکنالوجی، ڈیٹا، توانائی، خوراک، آبی وسائل اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تزویراتی خودمختاری کو بھی شامل کرتا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں جنرل سیکریٹری و صدر نے کہا کہ سابقہ نسلوں کو سب سے قابلِ قدر خراجِ تحسین آج کی نسل کی ذمہ داری اور عملی اقدامات ہیں، جبکہ آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ملک کی مسلسل ترقی کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کی جائیں اور بہتر مواقع پیدا کیے جائیں۔

تقریب کے دوران جنرل سیکریٹری و صدر تو لام نے پارٹی اور قوم کی انقلابی جدوجہد میں نمایاں اور غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پولٹ بیورو کے پانچ سابق ارکان کو ’’ہو چی منہ آرڈر‘‘ پیش کیے۔ اعزاز پانے والوں میں سابق صدر لوانگ کوانگ، سابق وزیراعظم فام من چن، پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سابق سیکریٹری اور سابق چیئرمین کمیشن برائے داخلی امور فان دن تراک، سابق مستقل نائب وزیراعظم نگوین ہوا بنہ اور ہو چی منہ سٹی پارٹی کمیٹی کے سابق سیکریٹری نگوین وان نین شامل تھے۔

پارٹی اور ریاستی رہنماؤں نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سابق ارکان کو ان کی شاندار خدمات اور سوشلزم کی تعمیر اور قومی دفاع کے لیے نمایاں کردار کے اعتراف میں فرسٹ اور سیکنڈ کلاس آزادی کے اعزازات بھی پیش کیے۔

اس موقع پر جنرل سیکریٹری و صدر تو لام اور دیگر پارٹی و ریاستی رہنماؤں نے موجودہ اور سابق پارٹی و ریاستی عہدیداروں کو 60، 45، 40 اور 35 سالہ پارٹی رکنیت کے اعزازی بیجز بھی پیش کیے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا میں ملکی پریمیم سیاحت کے فروغ کیلئے کاروباری روابط مضبوط بنانے کی کوششیں تیز
تاجکستان Next post تاجکستان میں طبی کارکنوں کے دن کی پروقار تقریب، صحت کے شعبے میں خدمات پر طبی عملے کو اعزازات