
ویتنام میں مصنوعی ذہانت کے ماہر افرادی قوت کی تیاری کے لیے جامع اقدامات
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اعلیٰ معیار کی افرادی قوت تیار کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، جن میں دنیا بھر میں موجود ویتنامی اے آئی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر تربیت اور تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا شامل ہے۔
یہ اقدامات پولٹ بیورو کی قرارداد نمبر 57-NQ/TW کے تحت سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور قومی ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں پیش رفت کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔
عالمی ویتنامی اے آئی ماہرین کا نیٹ ورک قائم
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے حال ہی میں فیصلہ نمبر 3335/QD-BKHCN کے تحت عالمی ویتنامی اے آئی ماہرین کا نیٹ ورک قائم کیا ہے، جس میں ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ویتنامی سائنسدانوں، ماہرین اور کاروباری شخصیات کے علاوہ ویتنام میں اے آئی کے فروغ میں تعاون کے خواہشمند بین الاقوامی ماہرین کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
نیٹ ورک کا مقصد عالمی سطح پر موجود ویتنامی اے آئی ٹیلنٹ کو ملک سے جوڑنا، تحقیقی اداروں، کاروباری اداروں اور ماہرین کے درمیان روابط مضبوط کرنا، مضبوط تحقیقی ٹیمیں تشکیل دینا اور تحقیق کو تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے عمل کو فروغ دینا ہے۔
اس کے علاوہ ماہرین کو پالیسی سازی اور اے آئی سے متعلق قومی سطح کے اہم پروگراموں اور منصوبوں کے لیے مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔
یہ نیٹ ورک کسی انتظامی تنظیم کے بجائے ایک کھلے، لچکدار اور رضاکارانہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جس کی توجہ ویتنام کو درپیش عملی مسائل کے حل اور بین الاقوامی و سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون کے فروغ پر مرکوز ہوگی۔
توقع ہے کہ یہ نیٹ ورک صحت، تعلیم، اسمارٹ شہروں، سائبر سکیورٹی اور قومی ڈیٹا سمیت ترجیحی شعبوں میں اسٹریٹجک اے آئی ماڈلز، پلیٹ فارمز اور مصنوعات کی تیاری میں معاونت کرے گا۔
تعلیم اور تحقیق بنیادی ستون
اہم نیٹ ورک ارکان کے ساتھ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی وو ہائی کوان نے اے آئی کو اسکولوں اور کاروباری اداروں تک پہنچانے، عالمی اے آئی ماہرین کی تربیت اور روابط کو فروغ دینے اور انہیں پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک موجود ویتنامی اے آئی ماہرین کا علم اور تعاون ملک میں اے آئی کی مؤثر اور ٹھوس ترقی کے لیے بنیادی محرک اور ناگزیر عنصر ہے۔
وزیر نے تربیت اور تحقیق کو نیٹ ورک کے دو اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز ماہرین کو تدریس، جدید معلومات کی فراہمی اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی میں کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ ملکی اور بیرونِ ملک دستیاب وسائل کو یکجا کر کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے، تحقیق کو فروغ دینے اور اسٹریٹجک اے آئی ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ماہرین کو طلبہ کے قریب لانے سے مستقبل کے اے آئی ماہرین اور چیف آرکیٹیکٹس کی ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت نے سنگاپور کے ’’100 ایکسپیریمنٹس‘‘ ماڈل جیسے طریقہ کار کو اپنانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت عملی مسائل کا سامنا کرنے والے کاروباری اداروں کو ایسے جامعات اور تحقیقی اداروں سے منسلک کیا جاتا ہے جہاں مطلوبہ انسانی وسائل اور تحقیقی صلاحیت موجود ہو، جبکہ ریاست ضروری طریقہ کار اور وسائل فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ ’’گلوبل مینٹورنگ‘‘ ماڈل کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم ویتنامی ماہرین کو ملک کے تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور کاروباری اداروں سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔
نیشنل فاؤنڈیشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ (NAFOSTED) کو معاونتی پروگراموں کی تیاری و عملدرآمد اور اے آئی سے متعلق اہم تحقیقی منصوبوں اور سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا مرکزی ادارہ مقرر کیا جائے گا، جبکہ پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، فورمز اور ورکشاپس کے انعقاد اور ماہرین کے درمیان روابط کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔
وزیر وو ہائی کوان کے مطابق تحقیقی منصوبوں کا انتخاب مسابقت، شفافیت اور منصفانہ اصولوں کے تحت کیا جائے گا تاکہ علمی وسائل کو یکجا، قدر میں اضافہ اور بڑے قومی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹا جا سکے۔
ماہرین کی بھرتی کے لیے اداروں کو مزید خودمختاری دینے پر زور
وزیر نے جامعات، تحقیقی اداروں اور کاروباری اداروں کو ماہرین کی بھرتی اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے زیادہ خودمختاری دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی بھرتی کے عمل کو حد سے زیادہ انتظامی ضوابط کا پابند بنانا ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے ویتنام نیشنل یونیورسٹی، ہوچی منہ سٹی کے ’’VNU 350‘‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے بیرونِ ملک سے تقریباً 100 پی ایچ ڈی اسکالرز اور تقریباً 100 وزٹنگ پروفیسرز کو راغب کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسابقتی تنخواہیں ہی کافی نہیں ہوتیں۔
سائنسدانوں کو ایسا سازگار ماحول بھی درکار ہوتا ہے جہاں انہیں طلبہ، جدید لیبارٹریوں، تحقیقی منصوبوں اور ساتھی ماہرین کے ساتھ کام کرنے کے مواقع میسر ہوں۔
2030 تک اے آئی انسانی وسائل کی ترقی کا قومی پروگرام
عالمی اے آئی ماہرین کے نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ وزیراعظم لی من ہنگ نے 11 اگست کو 2030 تک قومی اے آئی انسانی وسائل کی ترقی کے پروگرام کی منظوری دی، جس کا وژن 2035 تک مقرر کیا گیا ہے۔
پروگرام کا مقصد قومی تکنیکی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور اے آئی کے استعمال کو طلبہ، کارکنوں اور منتظمین کے لیے ایک بنیادی مہارت بنانا ہے۔
پروگرام کے تحت 2030 تک کم از کم 80 فیصد عمومی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو اے آئی کی بنیادی معلومات اور مہارتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے تمام طلبہ اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے کم از کم 80 فیصد طلبہ کو اے آئی، اخلاقیات اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ سرکاری شعبے کے کم از کم 90 فیصد افسران و ملازمین، ایک کروڑ کارکنوں اور ایک لاکھ اساتذہ، لیکچررز اور تعلیمی منتظمین کو جدید تربیتی پروگراموں کے ذریعے اے آئی کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کی تیاری کے لیے پروگرام کا مقصد جامعات کی سطح پر کم از کم 50 ہزار ایسے افراد کو تربیت یا اضافی مہارت فراہم کرنا ہے جو اہم شعبوں میں اے آئی کا اطلاق کر سکیں، جبکہ کم از کم 10 ہزار اعلیٰ تربیت یافتہ اے آئی محققین، انجینئرز اور ماہرین تیار کیے جائیں گے۔ ان میں سے کم از کم 1,500 ماہرین سے بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کرنے اور بڑے قومی اے آئی منصوبوں کی قیادت کرنے کی توقع ہے۔
عالمی اے آئی ماہرین کے نیٹ ورک اور قومی تربیتی پروگرام کا مجموعی مقصد ایک ایسی اے آئی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو تعداد میں کافی، مہارت میں اعلیٰ اور بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو، تاکہ ویتنام تحقیق، ترقی، اسٹریٹجک اے آئی ٹیکنالوجیز پر عبور اور ان کے عملی استعمال کے میدان میں اپنی صلاحیت بتدریج مضبوط کر سکے۔