
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 52واں اجلاس، غیر جانبداری کے فروغ سے متعلق ترکمانستان کی قرارداد منظور
عشق آباد، یورپ ٹوڈے: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کا 52واں اجلاس 17 اور 18 اکتوبر 2026 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد ہوا، جس میں ترکمانستان کے ایک وفد نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی اور علاقائی و عالمی امور، امن و سلامتی کے فروغ اور رکن ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے سے متعلق اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کا ایک اہم نتیجہ ترکمانستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی منظوری تھا، جس کا عنوان تھا: ’’او آئی سی کے دائرہ کار اور عالمی سطح پر بین الاقوامی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے تحفظ اور استحکام میں غیر جانبداری کی پالیسی کا کردار‘‘۔
قرارداد کو او آئی سی کے رکن ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جو امن کے فروغ، بین الاقوامی سلامتی کے استحکام اور پائیدار ترقی کے حصول میں غیر جانبداری کی پالیسی کو ایک مؤثر ذریعہ تسلیم کیے جانے کی عکاسی کرتی ہے۔
اجلاس کے دوران ترکمانستان کے وفد نے ایک بیان پیش کیا، جس میں او آئی سی کے ساتھ تعاون کے لیے ملک کی ترجیحی جہتوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ترکمانستان کی خارجہ پالیسی کے ان اقدامات پر خصوصی زور دیا گیا جن کا مقصد بین الاقوامی اعتماد کو فروغ دینا، مکالمے اور پیشگی سفارت کاری کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
وفد نے سال 2028 کو ’’بین الاقوامی قانون کا سال‘‘ قرار دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ یہ اقدام ترکمانستان نے پیش کیا تھا، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی۔
اجلاس میں تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بھی اہم موضوع رہا۔ اس سلسلے میں ترکمانستان کے وفد نے بتایا کہ ملک کو 2026 میں اسلامی عالمی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (آئی سی ای ایس سی او) میں مبصر کا درجہ دیا گیا، جس سے ان شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
ترکمانستان نے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ تجارت، اقتصادی ترقی، توانائی، نقل و حمل، مواصلات اور انسانی ہمدردی کے امور میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں ترکمانستان کی شرکت اور اس کی پیش کردہ قرارداد کی منظوری ملک کی ایسی خارجہ پالیسی سے وابستگی کو نمایاں کرتی ہے، جس کی بنیاد غیر جانبداری، امن، باہمی اعتماد اور کثیرالجہتی تعاون کا فروغ ہے۔
اجلاس کے نتائج عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارتی روابط، بین الاقوامی مکالمے اور مشترکہ تعاون کو مستحکم بنانے کی ترکمانستان کی کوششوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔