شہباز شریف

پاکستان اور ترکیہ کے سیاسی و تزویراتی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف

Read Time:3 Minute, 44 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے گہرے سیاسی اور تزویراتی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی 103ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں صدر رجب طیب اردوان، ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اقتصادی قوت، دفاعی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کرنے والا ملک اور دنیا کے سب سے زیادہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

انہوں نے تحریک خلافت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے برطانوی سامراج کے دور میں بھی ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے بھی پاکستان کے مشکل وقت میں ہمیشہ غیر معمولی یکجہتی اور تعاون کا مظاہرہ کیا، جس کی نمایاں مثال 2005ء کے زلزلے کے بعد اس کی فوری امدادی کارروائیاں اور 2010ء میں صدر اردوان کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ہے۔

وزیراعظم نے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان کے اس جذبۂ ایثار کو بھی یاد کیا جنہوں نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اپنا قیمتی ہار عطیہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے بعدازاں مظفرگڑھ میں ایک ہسپتال، اسکول اور ماڈل دیہات بھی تعمیر کیے، جہاں رجب طیب اردوان ہسپتال اور امینہ اردوان اسکول آج بھی مقامی آبادی کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ سال بھارت کے خلاف معرکۂ حق کے دوران پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے 7 اگست 2026ء کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے معاہدۂ مکہ کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاعی صلاحیت اور علاقائی امن و استحکام کے مشترکہ عزم کو مزید تقویت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

اقتصادی تعاون کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے جولائی میں استنبول میں پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس کے موقع پر کراچی میں صدر طیب اردوان خصوصی اقتصادی زون کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی نوجوان آبادی، تزویراتی جغرافیائی محل وقوع اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع دونوں ممالک کے لیے مشترکہ اقتصادی منصوبوں، کاروباری شراکت داری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی وسیع گنجائش رکھتے ہیں۔

تقریب کے دوران جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔

اس موقع پر ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروغلو نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترک جنگ آزادی اور 1923ء میں غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام نے دنیا کی متعدد اقوام کو متاثر کیا، جن میں جنوبی ایشیا کے مسلمان بھی شامل تھے، جو اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال دونوں ترک جدوجہد آزادی سے متاثر اور اس کے معترف تھے۔

ترک سفیر نے پاکستان اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کی تاریخی گہرائی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ترکیہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے اور جب ترکیہ مشکل حالات سے گزرتا ہے تو پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ محض دوست ممالک نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، مذہب اور قربانیوں کے رشتے میں بندھے ہوئے برادر ممالک ہیں۔

ڈاکٹر عرفان نیزیروغلو نے کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور اپنے تزویراتی اتحاد کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کے ذریعے دنیا کے لیے باہمی اشتراک کی ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے معاہدۂ مکہ دفاعی معاہدے اور ’’بدر‘‘ مفاہمتی یادداشت کو پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات میں تازہ ترین اہم سنگ میل قرار دیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
روس Previous post روس یوکرین تنازع کا حل تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے احترام اور سفارت کاری میں مضمر ہے، روسی سفیر