
ویتنام کا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال اور سمندری سلامتی کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور
نیویارک، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے اور امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنائے، خصوصاً سمندری سلامتی کے شعبے میں مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔
یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں ویتنام کے نائب مستقل نمائندے اور وزیر مشیر نگوین ہائی لیو نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے کے دوران کیا۔ مباحثے کا موضوع ’’ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سمندری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات‘‘ تھا۔
نگوین ہائی لیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نظام اور خودکار ٹیکنالوجیز سمیت جدید ٹیکنالوجیز سمندری تحفظ بہتر بنانے، تلاش اور امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال سمندری جہازوں کے عملے کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے، عالمی سپلائی چین میں خلل ڈالنے اور بین الاقوامی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سمندری ٹیکنالوجیز کی تیاری اور استعمال بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوام متحدہ کے منشور اور 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کے مکمل مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان ٹیکنالوجیز کے استعمال میں ساحلی ریاستوں کی خودمختاری، خودمختار حقوق اور دائرہ اختیار کا احترام، بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی کا تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔
ویتنامی نمائندے نے بڑھتی ہوئی خودکار ٹیکنالوجیز کے استعمال میں انسانی نگرانی اور جواب دہی کے مؤثر نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے ابتدائی انتباہی نظام، معلومات کے تبادلے کے انتظامات اور ہنگامی مواصلاتی ذرائع کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سائبر سکیورٹی کے واقعات اور سمندری نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو بڑے سلامتی بحران میں تبدیل ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجیز تک سستی رسائی فراہم کرنے کے لیے زیادہ معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا، خصوصاً سمندری سائبر سکیورٹی، بحری سرگرمیوں کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کے حوالے سے۔
کثیرالجہتی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے نگوین ہائی لیو نے کہا کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) اور آسیان کی قیادت میں قائم علاقائی تعاون کے نظام بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دینے اور تنازعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر سمندری امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ویتنام کے عزم کا اعادہ کیا۔
مباحثے میں شریک ممالک نے بھی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے سمندری نگرانی، بحری صورتحال سے آگاہی اور ابتدائی انتباہی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے امکانات کو اجاگر کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ شرکاء نے اہم سمندری بنیادی ڈھانچے اور زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں سمیت بڑھتے ہوئے سلامتی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے جہاز رانی، بین الاقوامی تجارت، اشیا کی نقل و حرکت اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ سائبر حملوں کی لاگت میں کمی کے باعث ان خطرات تک رسائی بھی آسان ہوتی جا رہی ہے۔
زیادہ تر ممالک نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری، مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بامعنی انسانی نگرانی اور زیرِ سمندر کیبلز سمیت دیگر اہم سمندری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
شرکاء نے سائبر سکیورٹی کے اقدامات مضبوط بنانے، بحری صنعت کے ساتھ قریبی تعاون بڑھانے اور مسلح تنازعات کے دوران بھی تجارتی جہازوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات پر زور دیا۔
مباحثے کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے فوائد سے بھرپور استفادے اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کم کرنے کے لیے معلومات کا تبادلہ، تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ اور کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہیں۔