
آسیان کو عوامی فلاح، امن اور قانون پر مبنی علاقائی نظام کے فروغ سے اپنی ساکھ مضبوط بنانا ہوگی، انڈونیشیا
منیلا، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) پر زور دیا ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے ثمرات عوام تک پہنچا کر، خطے میں امن، استحکام اور قانون پر مبنی نظام حکمرانی کو فروغ دے کر اپنی ساکھ مزید مستحکم کرے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ آسیان کے 59ویں وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوگیونو نے کہا کہ آسیان کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ تنظیم کتنی آگے بڑھ چکی ہے بلکہ یہ ہے کہ آیا اس کے عوام واقعی اس کے اقدامات کے فوائد محسوس کر رہے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا، "اصل سوال یہ نہیں کہ آسیان کہاں تک پہنچی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے عوام اس کے ثمرات سے حقیقی طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔”
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری آسیان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا اس سال جنوبی بحیرۂ چین کے لیے ایک مؤثر اور جامع ضابطۂ اخلاق (Code of Conduct) کی تکمیل کا حامی ہے، جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر استوار ہو۔
سوگیونو نے کہا کہ "قانون کے تحت چلنے والا خطہ ہمیشہ طاقت کے زور پر چلنے والے خطے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے،” اور اس بات کا اعادہ کیا کہ انڈونیشیا خطے میں قانون پر مبنی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آسیان کی ساکھ کا انحصار اس کی اپنے شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت پر ہے۔ اس مقصد کے لیے انڈونیشیا نے تجویز پیش کی ہے کہ آسیان کے قونصلر امور کے سربراہان پر مشتمل ایک مشترکہ فورم قائم کیا جائے تاکہ بیرون ملک تنازعات، ہنگامی حالات اور دیگر بحرانوں کے دوران رکن ممالک کے شہریوں کے تحفظ کے لیے باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
سوگیونو نے آسیان اور اس کے مکالماتی شراکت داروں کے درمیان زیادہ عملی اور ضروریات پر مبنی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بحرانوں سے نمٹنے، غذائی و توانائی تحفظ اور مضبوط سپلائی چینز کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2027 میں آسیان کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر تنظیم کو آسیان کمیونٹی وژن 2045 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور وسائل میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
منیلا میں 20 سے 24 جولائی تک جاری رہنے والے 59ویں آسیان وزرائے خارجہ اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور بیرونی شراکت داروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں، جہاں آسیان کمیونٹی کی تعمیر، بیرونی تعلقات اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے آسیان تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بیان اور معاہدۂ دوستی و تعاون (Treaty of Amity and Cooperation) سے متعلق متعدد اہم دستاویزات کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ترکیہ کو آسیان کا نیا ڈائیلاگ پارٹنر (مکالماتی شراکت دار) تسلیم کیا جائے، جسے تنظیم کے بین الاقوامی شراکت داری کے دائرہ کار میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔