آذربائیجان

آذربائیجان کے وزیراعظم علی اسدوف کی او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات

Read Time:1 Minute, 45 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے وزیراعظم علی اسدوف نے 27 اکتوبر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد سے ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون کے فروغ، بین الثقافتی مکالمے اور 2027 میں آذربائیجان کی جانب سے او آئی سی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تیاریوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آذربائیجان کی کابینہ کے مطابق، ملاقات میں باکو میں منعقدہ بین الثقافتی مکالمے کے ساتویں عالمی فورم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ فریقین نے اس فورم کو مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے کے فروغ، باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے بارے میں افہام و تفہیم بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔ اس موقع پر او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کی فورم میں شرکت کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔

ملاقات میں او آئی سی کے رکن ممالک کے انسدادِ بدعنوانی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان کے تیسرے اعلیٰ سطحی باکو اجلاس کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ اس اجلاس کو بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں تعاون کو وسعت دینے اور بہترین تجربات و طریقہ کار کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

آذربائیجان کی جانب سے اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر کہا گیا کہ تنظیم کی رکنیت کے 35 برسوں کے دوران آذربائیجان نے او آئی سی کی بین الاقوامی حیثیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ملاقات کے دوران آذربائیجان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے او آئی سی کی مسلسل اور اصولی حمایت کو بھی سراہا گیا۔

فریقین نے 2027 میں او آئی سی کے 16ویں اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی اور تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے لیے آذربائیجان کی تیاریوں پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر آذربائیجان اور اسلامی تعاون تنظیم کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تعاون کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ہنوئی Previous post ہنوئی میں ہوان کیم جھیل کے اطراف 860 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبے کی تجویز، 2029 تک تکمیل کا ہدف
سعودی عرب Next post سعودی کابینہ کا اجلاس: قطر اور پاکستان کی ثالثی و امن کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ، حوثی حملوں کی مذمت