کَیس

کَیس لاہور میں جیو اکنامکس، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کے باہمی تعلق پر مباحثہ

Read Time:3 Minute, 23 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: سنٹر فار ایئرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے 19 اگست 2026 کو ”طاقت کی نئے سرے سے تعریف: اسٹریٹیجک مسابقت کے دور میں جیو اکنامکس، ٹیکنالوجی اور سلامتی“ کے عنوان سے ایک فکری و علمی نشست کا انعقاد کیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔

کَیس لاہور ایک آزاد تھنک ٹینک کی حیثیت سے قومی سلامتی کو اس کے وسیع تر تناظر میں زیرِ بحث لانے کے لیے اسکالرز اور ماہرین کے ساتھ علمی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ تقریب کا افتتاح کَیس لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ محترمہ سبرا وسیم نے کیا۔

چیئرمین پاکستان ریجنل اکنامک فورم اسلام آباد، ہارون شریف نے کہا کہ پاکستان کو اپنی جیوپولیٹیکل اہمیت کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے اسٹریٹیجک شراکت داریوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ایکو سسٹم کے فروغ سے منسلک کرنا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹیجک محلِ وقوع سے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں تنوع اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سالانہ لیبر مارکیٹ میں تقریباً 40 لاکھ نئے افراد کے داخلے کے پیشِ نظر روزگار کے مؤثر مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن، پیداواریت اور برآمدی استعداد رکھنے والے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ علمی و تکنیکی شراکت داری، تحقیق و ترقی اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوشل پروٹیکشن ریسورس سینٹر اسلام آباد، ڈاکٹر صفدر سہیل نے پاکستان کے جغرافیائی سیاسی تعلقات کو معاشی تبدیلی کے عمل سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور سی پیک کے ذریعے حاصل ہونے والے اسٹریٹیجک مواقع کو مینوفیکچرنگ صلاحیت، ٹیکنالوجی شراکت داری اور برآمدی مسابقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی محدود برآمداتی بنیاد کے تناظر میں ترقیاتی فنانس اور مؤثر صنعتی پالیسی کی اہمیت اجاگر کی۔ ڈاکٹر صفدر سہیل نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتر اعداد و شمار، معیارات اور مالیاتی نظام کے ساتھ مینوفیکچرنگ اور چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کے انضمام کو خودکفیل معیشت کے قیام کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے شدید مالی مشکلات کے باوجود مئی 2025 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی فیصلہ کن کامیابی کو بھی سراہا۔

اختتامی کلمات میں صدر کَیس لاہور، ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ عسکری قوت بدستور ناگزیر ہے، تاہم موجودہ دور میں معیشت، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی باہم گہرے طور پر مربوط ہو چکے ہیں، اور ایک شعبے میں پیدا ہونے والا خلل دوسرے شعبوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، علاقائی رابطہ کاری اور تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے تناظر میں ان صلاحیتوں کو پائیدار معاشی فوائد میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایسی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا جو ملک کے مضبوط شعبوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ترقی کے یکساں مواقع بھی یقینی بنائے۔

ایئر مارشل عاصم سلیمان نے انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے وژن کا حوالہ دیا، جس کے تحت بہترین دستیاب افرادی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے اور پاک فضائیہ کے وسائل کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے ادارے کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمتِ عملی نے معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

تقریب کا اختتام ایک جامع اور فکر انگیز سوال و جواب کی نشست سے ہوا، جس میں اقتصادی جغرافیہ، جی ڈی پی نمو کے مختلف ماڈلز اور معاون پالیسیوں کو قومی طاقت کے مؤثر ذرائع کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی جانب سے جیو اکنامکس، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے باہمی تعلق پر اس اہم اور فکر انگیز مباحثے کے انعقاد کو سراہا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کابینہ Previous post وفاقی کابینہ کی قومی نوعمر و نوجوان پالیسی کی اصولی منظوری
تو لام Next post ویتنامی صدر تو لام کا پارٹی قیادت اور طرز حکمرانی کو مزید مؤثر بنانے پر زور