وفاقی بجٹ

وفاقی بجٹ میں صحت، تعلیم اور ترقیاتی شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجاویز

Read Time:1 Minute, 47 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: آئندہ وفاقی بجٹ میں شعبہ صحت، تعلیم اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق شعبہ صحت کے لیے 22 ارب روپے جبکہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے 187.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صحت کے مجموعی بجٹ میں 1.30 ارب روپے بیرونی امداد جبکہ 20.70 ارب روپے مقامی وسائل سے فراہم کیے جائیں گے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ صحت و غذائیت کے لیے 24.3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں سوشل سیکٹر کے 187.2 ارب روپے میں سے 2.2 فیصد حصہ شعبہ صحت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ امراض قلب سے بچاؤ اور تحقیق کے لیے 1.5 ارب روپے، آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی توسیع کے لیے 1 ارب روپے اور اسلام آباد میں میڈیکل سٹی کے لیے زمین کے حصول کی خاطر علامتی فنڈز رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 78.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مستحق طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی مد میں 3 ارب روپے جبکہ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 3.29 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

مزید یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی مد میں 150 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ دانش اسکولز نیٹ ورک کو پسماندہ علاقوں تک توسیع دینے کے لیے بھی اربوں روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ان مجوزہ منصوبوں میں بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ بگٹی، آزاد کشمیر کے باغ، بھمبر، شاردہ اور حویلی کہوٹہ، گلگت بلتستان کے سلطان آباد، شگر، استور اور سکردو، سندھ کے ٹنڈو محمد خان اور ضلع چترال میں دانش اسکولز کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔

مزید برآں، ضم شدہ اضلاع کے لیے 66.1 ارب روپے جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 79.4 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
دوشنبے Previous post دوشنبے میں تاجکستان–کوریا 2026 ثقافتی فیسٹیول 17 تا 18 جون کو منعقد ہوگا
قانونی تبدیلی اور آذربائیجان کی “عظیم واپسی” حکمتِ عملی Next post قانونی تبدیلی اور آذربائیجان کی “عظیم واپسی” حکمتِ عملی