
فرانس کی اعلیٰ عدالت کا تاریخی فیصلہ، بیرونِ ملک سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کو قانونی شناخت دینے کا حکم
پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیرونِ ملک سروگیسی (رحمِ مادر کرائے پر لینے) کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کو فرانس میں ان کے قانونی والدین کی اولاد کے طور پر تسلیم کیا جائے گا، اگرچہ فرانس میں سروگیسی پر پابندی برقرار رہے گی۔
عدالت کا یہ فیصلہ ایک شادی شدہ ہم جنس مرد جوڑے کے مقدمے پر سامنے آیا، جن کے تین بچے کینیڈا میں سروگیسی کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ جوڑے نے فرانسیسی حکام سے درخواست کی تھی کہ کینیڈا کی عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم کیا جائے جس میں انہیں بچوں کے قانونی والدین قرار دیا گیا تھا۔
فرانسیسی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اس بنیاد پر کسی غیر ملکی عدالتی فیصلے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ فرانس میں سروگیسی ممنوع ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی دوسرے ملک میں سروگیسی قانونی طور پر انجام دی گئی ہو اور وہاں کی عدالت نے والدین کی قانونی حیثیت تسلیم کر لی ہو تو فرانس کو بھی اس فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
یہ فیصلہ فرانس میں ایک اہم قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور ان خاندانوں کے لیے بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے جو بیرونِ ملک سروگیسی کے ذریعے بچوں کے والدین بنے لیکن فرانس میں انہیں قانونی شناخت کے مسائل کا سامنا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں بچوں کے حقوق اور ان کے قانونی والدین کے ساتھ تعلق کو تحفظ دینے پر زور دیا گیا تھا۔
فرانس میں سروگیسی بدستور قانوناً ممنوع ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچوں کی قانونی حیثیت واضح ہوگی اور اس حساس معاملے پر ملک میں نئی سیاسی اور قانونی بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔