
ویتنام کی معاشی ترقی میں آئی ایم ایف قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، وزیراعظم لی من ہنگ
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیراعظم لی من ہنگ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ملک کے سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ایک اسٹریٹجک پالیسی مشاورتی شراکت دار اور قابلِ اعتماد ساتھی قرار دیتے ہوئے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات منگل کے روز آئی ایم ایف کے کمبوڈیا، لاؤس اور ویتنام کے سبکدوش ہونے والے علاقائی نمائندے یوخن شمٹ مین اور ویتنام و لاؤس کے لیے 23 اگست سے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے علاقائی نمائندے فازورین جمال الدین سے ملاقات کے دوران کہی۔
وزیراعظم لی من ہنگ نے یوخن شمٹ مین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ ذمہ داری میں پالیسی مذاکرات کے فروغ، تربیتی پروگراموں اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شمٹ مین کو نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد دی اور فازورین جمال الدین کی تقرری کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران ویتنامی وزیراعظم نے کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی کے 14ویں اجلاس کی جانب سے ملک کے ترقیاتی ماڈل میں تجدید سے متعلق قرارداد کی منظوری کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جامع ساختی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ طویل المدتی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ویتنام کو 2030 تک جدید صنعت اور اعلیٰ متوسط آمدنی والے ترقی پذیر ملک اور 2045 تک ترقی یافتہ و بلند آمدنی والی معیشت بنانا ہے۔
آئی ایم ایف کے نمائندوں کو ویتنام کی موجودہ سماجی و اقتصادی صورتحال اور حکومتی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی مستقل پالیسی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنا اور مالیاتی و بینکاری نظام کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویتنام مالیاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنائے گا اور سرمایہ جاتی منڈی کو ترقی دے گا تاکہ بینکاری قرضوں پر انحصار بتدریج کم کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک قلیل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے میکرو اکنامک استحکام یا مالیاتی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزیراعظم لی من ہنگ نے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں کا بھی ذکر کیا، جن میں متعدد مسودہ قوانین کا جائزہ لے کر منظوری دی جائے گی تاکہ ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف قانونی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد محفوظ اور پرکشش سرمایہ کاری و کاروباری ماحول پیدا کرنا، جبکہ کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور عالمی شراکت داروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ویتنامی حکومت آئی ایم ایف کے جائزوں اور سفارشات کو پالیسی سازی اور ان کے مؤثر نفاذ میں ایک اہم رہنما ذریعہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ فازورین جمال الدین کے دور میں آئی ایم ایف کا دفتر دونوں اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے پل کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا، پالیسی مذاکرات کو مزید مضبوط بنائے گا اور ویتنام کی تیز رفتار و پائیدار ترقی کے لیے عملی تجاویز فراہم کرتا رہے گا۔
اس موقع پر یوخن شمٹ مین نے ویتنام اور آئی ایم ایف کے درمیان مضبوط تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے قابلِ ذکر اقتصادی ترقی حاصل کی ہے، بیرونی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا ہے اور طویل المدتی ترقی کے لیے اہم شعبوں میں اصلاحات نافذ کی ہیں۔
انہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور ڈیجیٹل تبدیلی پر ویتنام کی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ مربوط مالیاتی، زرِ مبادلہ اور دیگر پالیسی اقدامات کے ذریعے ملک کے پاس ترقی کی رفتار مزید تیز کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
شمٹ مین نے کہا کہ آئی ایم ایف ویتنام کے دوہرے ہندسے کی اقتصادی ترقی کے ہدف کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مالیاتی، بینکاری اور زرِی شعبوں سمیت اہم امور پر جائزے اور پالیسی سفارشات فراہم کرتا رہے گا۔
نئے علاقائی نمائندے فازورین جمال الدین نے بھی ویتنام کی ترقی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بلند اقتصادی ترقی کے اہداف اور معیشت کی تبدیلی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آئی ایم ایف اور ویتنام کے درمیان تعاون کی کامیابیوں کو آگے بڑھائیں گے اور ادارے کی جانب سے ویتنام کے ترقیاتی اہداف اور اسٹریٹجک ترجیحات کے حصول میں مسلسل معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔