
صدر پرابوو سوبیانتو کی کابینہ کارکردگی کا جائزہ، عوامی خدمت اور غذائی تحفظ کو اولین ترجیح قرار
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے پیر کے روز اسٹیٹ پیلس میں کابینہ کے مکمل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی حکومت کے تقریباً دو سالہ دورِ اقتدار کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور 17 اگست 2026 کو ملک کے 81ویں یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل آئندہ حکومتی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء، مختلف سرکاری اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں اہم حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
ریڈ وائٹ کابینہ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ پیش رفت کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل پر اپنی توجہ برقرار رکھ سکے۔
انہوں نے کہا، "ہم تقریباً دو برس سے مسلسل سخت محنت کر رہے ہیں، اور کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے شاید ہمیں یہ احساس نہ ہو سکا کہ اس عرصے میں ہم نے کتنی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔”
صدر نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، قومی نظم و نسق اور اقتصادی استحکام پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں۔
انہوں نے کابینہ ارکان پر زور دیا کہ وہ موجودہ مسائل کے حل پر توجہ دیں اور سابقہ حکومتوں پر الزام تراشی سے گریز کریں، کیونکہ ہر دورِ حکومت کو اپنے وقت کے منفرد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدر پرابوو نے کہا کہ انڈونیشیا اس وقت اساتذہ کی کم فلاح و بہبود، محدود روزگار کے مواقع، شدید غربت، معاشی عدم مساوات اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، جنہوں نے قومی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان چیلنجز کو عوامی اعتماد پر پورا اترنے کا موقع سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اپنے پہلے سال کے دوران 108 بڑے مسائل کامیابی سے حل کیے، جو ایک اہم کامیابی ہے۔
صدر نے کہا، "تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہماری حکومت نے ایک سال سے زائد عرصے میں 108 اہم مسائل حل کیے ہیں، جو کسی بھی طرح معمولی کامیابی نہیں۔”
تاہم انہوں نے وزراء کو خبردار کیا کہ وہ حاصل شدہ کامیابیوں پر اطمینان کا شکار نہ ہوں بلکہ حکومتی کارکردگی میں مسلسل بہتری اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھیں۔
صدر پرابوو نے غذائی تحفظ کو حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار زرعی پیداوار کے لیے پانی اور کھاد کی مسلسل دستیابی، قابلِ کاشت زرعی زمین اور مؤثر حکومتی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے اپنی حکومت کے متعدد اہم منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں مفت غذائیت بخش کھانوں کا پروگرام، اسکولوں میں ڈیجیٹل انٹرایکٹو اسکرینوں کی فراہمی، قومی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے فروغ، دیہی کوآپریٹو اداروں کا قیام اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائشی منصوبے شامل ہیں۔
صدر نے بتایا کہ کابینہ کے اس مکمل اجلاس کے نتائج کو حکومت کی گزشتہ ایک سالہ کارکردگی پر مبنی ایک جامع رپورٹ کی صورت میں مرتب کیا جائے گا، جسے انڈونیشیا کے 81ویں یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پیش کیا جائے گا۔