
مہنگائی، بے روزگاری اور بجٹ: عوام کی امیدیں پوری ہوں گی؟
حالیہ وفاقی بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان کو معاشی چیلنجز، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے حکومت نے بجٹ کو معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے تاہم عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ اس کے عملی نتائج ان کی روزمرہ زندگی پر کس حد تک مثبت اثرات مرتب کریں گے گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے ایسے حالات میں عوام بجٹ سے حقیقی ریلیف اور معاشی آسانیوں کی توقع رکھتے ہیں بے روزگاری بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے ہر سال ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں لیکن روزگار کے محدود مواقع ان کی مایوسی کا سبب بنتے ہیں بجٹ میں روزگار پیدا کرنے کے اعلانات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے گا حکومت نے ترقیاتی منصوبوں، صنعتوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے اگر یہ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوتے ہیں تو نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی بھی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے عوام بھی اس بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں صوبے میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے مواقع کی شدید ضرورت ہے اگر ترقیاتی فنڈز شفاف انداز میں خرچ کیے جائیں تو بلوچستان قومی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے بجٹ کی کامیابی کا دارومدار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ پر ہے ٹیکس نظام میں بہتری، غیر ضروری اخراجات میں کمی برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے ا خر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بجٹ نے عوام کو امید ضرور دی ہے، لیکن امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مضبوط حکمتِ عملی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے اگر حکومت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہی تو مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر عوام کی مشکلات اور توقعات کے درمیان موجود فاصلہ برقرار رہے گا۔