خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

Read Time:33 Second

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں
یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

About Post Author

علامہ اقبال

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
بجٹ Previous post وفاقی بجٹ عوامی ریلیف اور فلاح و بہبود کا بجٹ ہے، خوشحالی کے دور کا آغاز ہو چکا ہے: وزیراعظم شہباز شریف
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا اور نیدرلینڈز کے رہنماؤں کا رابطہ، دوطرفہ تعلقات، تجارتی معاہدے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال