
امریکا سے رابطے منقطع نہیں ہوئے، مذاکرات میں پیش رفت نہیں: عباس عراقچی؛ کویت ایئرپورٹ حملے پر ایران اور امریکا کے متضاد دعوے
تہران، یورپ ٹوڈے: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ رابطے منقطع نہیں ہوئے، تاہم جاری مذاکرات میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
لبنانی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کیے گئے متون کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی رابطے جاری رہیں گے، تاہم مذاکراتی عمل کے نتائج کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل بیروت پر حملہ کرتا ہے تو ایران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے کویت ایئرپورٹ کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کے مطابق ہوائی اڈے پر ہونے والی تباہی ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کے دوران امریکی دفاعی نظام میں خرابی کے باعث ہوئی۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاسداران انقلاب کے ترجمان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کویت ایئرپورٹ کو کسی امریکی میزائل انٹرسیپٹر سے نقصان نہیں پہنچا۔
ادھر کویتی وزارت خارجہ نے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی سفارتی عملے میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا، جبکہ دو ایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر کویت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کویت ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک جبکہ 63 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے چند گھنٹوں بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بحال کر دیا گیا تھا۔