آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا

آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا

Read Time:27 Second

آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا
اس نگر میں ایک بھی تو راستہ ایسا نہ تھا

اک شناسائی نے اندر کی اکائی توڑ دی
مجھ سے میرا فاصلہ پہلے کبھی اتنا نہ تھا

پھر پھرا کے اڑ گئی کیوں پیڑ سے چڑیوں کی ڈار
ٹہنیوں پر سانپ کا پھن تو ابھی ابھرا نہ تھا

کچھ ہوا کی شدتیں گرنے کا باعث ہوگئیں
کچھ مری جڑ نے زمیں کو زور سے پکڑا نہ تھا

کس طرح رفعت بھلا میں اس کے اندر جھانکتی
اس نے کوئی چور دروازہ کھلا رکھا نہ تھا

About Post Author

رفعت وحید

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وفاقی بجٹ 2026-27: وزیراعظم شہباز شریف کی صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے مشاورت، برآمدات پر مبنی ترقی پر زور
امریکا سے رابطے منقطع نہیں ہوئے، مذاکرات میں پیش رفت نہیں: عباس عراقچی؛ کویت ایئرپورٹ حملے پر ایران اور امریکا کے متضاد دعوے Next post امریکا سے رابطے منقطع نہیں ہوئے، مذاکرات میں پیش رفت نہیں: عباس عراقچی؛ کویت ایئرپورٹ حملے پر ایران اور امریکا کے متضاد دعوے