
مراکش میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم معاہدہ
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش نے اپنے خودمختار اور مسابقتی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزارتِ ڈیجیٹل ٹرانزیشن و انتظامی اصلاحات اور اورنج مراکش کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد “AI Made in Morocco” اقدام کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ معاہدہ کاسابلانکا میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیرِ مملکت برائے ڈیجیٹل ٹرانزیشن و انتظامی اصلاحات آمل الفلاح السغروشنی اور اورنج مراکش کے سی ای او ہنڈرک کاسٹیل نے قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے نمائندوں کی موجودگی میں کیا۔
معاہدے کا مقصد مختلف اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کی تیاری، جانچ اور نفاذ کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ شراکت داری قومی حکمتِ عملی “مغرب ڈیجیٹل 2030” اور “AI Made in Morocco” روڈمیپ کے مطابق ہے، جبکہ اس سے ملک میں جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے جزارِی انسٹی ٹیوٹس نیٹ ورک کے نفاذ میں بھی مدد ملے گی۔
اس فریم ورک کے تحت دونوں فریقین کا مقصد عملی مصنوعی ذہانت کے استعمالات (use cases) تیار کرنا اور ان پر تجربات کرنا ہے، خصوصاً ڈیجیٹل پبلک ایڈمنسٹریشن اور ای-گورننس کے شعبوں میں، تاکہ سرکاری خدمات کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور ریاستی اداروں کی جدید کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر آمل الفلاح السغروشنی نے اس معاہدے کو مراکش کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور تربیتی پروگراموں کو متحرک کرنے میں مدد دے گی اور قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نظام کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کئی پائلٹ منصوبوں کی نشاندہی پہلے ہی کر لی گئی ہے جن پر آئندہ مہینوں میں مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔
دوسری جانب اورنج مراکش نے ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ کمپنی کے چیف کنزیومر آفیسر نوئل شاتو نے اس معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اورنج اپنی ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر اور مہارت کے ذریعے عملی مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی تیاری میں کردار ادا کرے گا۔
یہ منصوبے ای-گورننس، ای-ہیلتھ، ای-ایجوکیشن اور ای-ایگریکلچر سمیت مختلف اسٹریٹجک شعبوں کو نشانہ بنائیں گے، جو “مغرب ڈیجیٹل 2030” اور قومی “AI Made in Morocco” روڈمیپ سے ہم آہنگ ہیں۔
حکام کے مطابق یہ شراکت داری ایک ایسے مضبوط، اختراعی اور خودمختار ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے جو مراکش کی تکنیکی ترقی کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے میدان میں قومی مہارت کو بھی مضبوط بنائے گا۔
وزارت کے مطابق جزارِی پروگرام ایک مربوط قومی نیٹ ورک کی شکل میں تشکیل دیا گیا ہے جس میں خصوصی انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں۔ ہر انسٹی ٹیوٹ اپنی تھیمیٹک خودمختاری رکھتا ہے مگر مجموعی طور پر علم، ڈیٹا اور مہارت کے ایک مشترکہ نظام سے منسلک ہے۔
اس پروگرام کا مقصد تحقیق، تجربات، صنعتی اطلاق اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر تک جدت کے مکمل سلسلے کا احاطہ کرنا ہے۔
اس وقت پروگرام کے تحت پانچ انسٹی ٹیوٹس قائم کیے جا چکے ہیں جن میں جزارِی روٹ (مرکزی کوآرڈینیشن و آرکیٹیکچر ہب)، جزارِی اسمارٹ سٹی (اسمارٹ شہری ترقی)، جزارِی ایجو ٹیک (تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن)، جزارِی انڈسٹری ایکس زیرو (صنعتی مسابقت)، اور جزارِی اسمارٹ انرجی (توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال) شامل ہیں۔