پاکستان

پاکستان اور یورپی یونین کا اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

Read Time:2 Minute, 39 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا اسٹریٹجک وژن پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینے، مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کا اسٹریٹجک وژن 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2004 کے تعاون کے معاہدے کی بنیاد پر شراکت داری کے فروغ اور طویل المدتی تعاون کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔

اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے کی، جو ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا تسلسل پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو نئی رفتار دینے اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کی تشکیل کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے یورپی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان-بھارت جنگ کے دوران اور موجودہ علاقائی صورتحال میں یورپی یونین کی فعال سفارتی مصروفیات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے درمیان ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے یورپی کمیشن کی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں فریق تجارت سمیت متعدد شعبوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کایا کالاس نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے سہولت کار کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جاری تنازع کے باعث دنیا بھر میں توانائی اور کھادوں کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ایک پائیدار جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے تسلسل کی خواہاں ہے تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

کایا کالاس نے کہا کہ 2026 پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین آزاد اور منصفانہ تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار رابطہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو امریکہ اور چین کی مجموعی منڈیوں سے بھی بڑی ہے۔

کایا کالاس نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، جو اس شراکت داری کی تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں اس کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ دونوں فریق موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، نقل مکانی، افرادی نقل و حرکت اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
گیلانی Previous post عالمی یومِ والدین کے موقع پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا والدین کو خراجِ تحسین
فرانسیسی Next post شاہ محمد ششم کا فرانسیسی مفکر ایڈگر موراں کے انتقال پر اظہارِ تعزیت