
پاکستان کا سلامتی کونسل میں سوال، جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں کیسے جاری ہیں؟
اقوام متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار ہے تو اسرائیلی فوجی حملے اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں کس طرح جاری ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ہمیں بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے تو پھر اسرائیلی حملے کیسے جاری ہیں اور شہری کیوں مارے جا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی امریکا کے غزہ کے لیے 15 نکاتی امن منصوبے کا پہلا اور سب سے اہم قدم تھا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ سلامتی کونسل کے واضح مؤقف اور اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں روکنے کے بار بار مطالبات کے باوجود یہ سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نام نہاد ’’E1‘‘ آبادکاری منصوبے کی پیش رفت کو انتہائی تشویشناک اور خطرناک پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کو مؤثر طور پر ایک دوسرے سے جدا کر دے گا، جس سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقائی تسلسل کو شدید خطرہ لاحق ہوگا اور ہزاروں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ آبادکاروں کا تشدد بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2026 کے اوائل میں ہر ماہ تقریباً 190 آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے، جو ناقابل قبول ہیں اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینان (UNRWA) کے قلندیہ ٹریننگ سینٹر میں اسرائیلی فورسز کے داخلے کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
پاکستانی مندوب نے فلسطینی کلیئرنس ریونیو کی 6 ارب ڈالر سے زائد رقم روکے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے فلسطینی اتھارٹی کی ضروری خدمات کی فراہمی کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ آمدنی بلا تاخیر جاری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ امن کے فروغ اور بورڈ آف پیس کے تحت متوقع عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم کوششیں کی گئی ہیں، تاہم امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں اور روڈ میپ کو مسترد کرنا سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے تمام غیر قانونی اقدامات فوری طور پر روکنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کیا جائے، جس کا آغاز جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور اس کی مؤثر نگرانی و تصدیق سے ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی تمام خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور دیگر سنگین جرائم پر احتساب یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن اور خطے میں استحکام کے مفاد میں غیر قانونی قبضے کا خاتمہ ضروری ہے، جو سلامتی کونسل اور عالمی برادری کا مشترکہ مقصد ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے وقار، انصاف اور حق خودارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خطے کے تمام عوام کے لیے امن کا واحد قابل عمل راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کا قیام ہے، جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے۔
اجلاس کے آغاز پر مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ تقریباً ایک سال سے جاری جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حالات بدستور انتہائی ابتر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے وقفے کے بعد 12 اگست کو اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوئے، جبکہ رپورٹنگ کی مدت کے دوران 100 فلسطینی جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں کے تسلسل کی بھی نشاندہی کی۔
غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف اور رامز الاکبروف نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی روڈ میپ اور جامع منصوبے پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔ منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی اور عبوری فلسطینی حکمرانی کا قیام شامل ہے۔
ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایتھینا رے برن نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں رپورٹ ہونے والی بہتری اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتی کہ 20 لاکھ فلسطینی بدستور شدید مشکلات کا شکار اور محصور ہیں۔
اجلاس میں اسرائیل نے امن عمل میں رکاوٹ کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا، جبکہ فلسطین نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل واضح طور پر فلسطینی ریاست کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔