
پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف گامزن، تیسرا بجٹ ترقی کی رفتار تیز کرے گا: وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے استحکام حاصل کر لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ وفاقی حکومت کا تیسرا بجٹ معیشت کو تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔
وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں آئندہ وفاقی بجٹ کی منظوری دی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کو کامیابی سے عبور کیا اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
انہوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران معاشی مشکلات اور مہنگائی برداشت کرنے پر قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 24 کروڑ پاکستانی عوام کے صبر و تحمل نے ملک کی معاشی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے دو بجٹ قومی ضروریات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق تھے، جن کے لیے مشکل مالی فیصلے اور اضافی ٹیکس اقدامات ضروری تھے تاکہ غیر یقینی صورتحال کا شکار معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں عام شہریوں کو درپیش مشکلات کا مکمل ادراک ہے، تاہم گزشتہ دو برسوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹس تک آگئی ہے جبکہ پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکا ہے۔‘‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علاقائی اور عالمی حالات، خصوصاً خلیجی خطے میں کشیدگی، نے اضافی چیلنجز پیدا کیے، تاہم پاکستان معاشی استحکام کے راستے پر قائم رہا۔ انہوں نے کہا کہ اہم معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں اور نئی بجٹ پالیسیوں سے ترقی اور سرمایہ کاری میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ انہوں نے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، جس میں دو مسیحی بھائی بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم کے لیے باعثِ رنج ہے۔ وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع، خصوصاً سولر، ونڈ اور بیٹری اسٹوریج میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور پانی کے ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر کو ملک کی طویل المدتی توانائی و آبی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں تمام صوبوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے اور اس عمل میں قومی یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کا جذبہ نمایاں رہا۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے وفاق اور پنجاب کے درمیان رابطہ کاری کے فروغ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بھی مالی معاملات میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں نے وفاقی مالی ضروریات کے حوالے سے فراخدلی اور قومی وابستگی کا مظاہرہ کیا، جو قومی یکجہتی اور اتحاد کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے وفاقی اقتصادی ٹیم کی آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر تعریف کی اور بتایا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے خود گفتگو کی، جس میں پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں بالآخر عوام کے لیے خوشحالی اور بہتر معیارِ زندگی کا باعث بنیں گی۔
وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ چین سے متعلق کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے چار اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کا بھی حکومت کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔