چائلڈ

وزیرِاعظم شہباز شریف کا چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کا اعادہ، ہر بچے کو تحفظ اور تعلیم کی فراہمی پر زور

Read Time:3 Minute, 12 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم شہباز شریف نے چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہر بچے کو استحصال سے محفوظ رکھا جائے گا اور تعلیم کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے ہر ممکن مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام یہ دن اس سال عالمی سطح پر ’’چائلڈ لیبر کو ریڈ کارڈ: بچوں کے لیے منصفانہ کھیل، بالغوں کے لیے باوقار روزگار‘‘ کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 13 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔

وزیرِاعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ قومی اقتصادی و سماجی ترقی اور سماجی انصاف کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اقوام کی ترقی، مستقبل کی افرادی قوت کی مضبوطی اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کا بہترین استعمال اسی ماحول سے ممکن ہے جہاں انہیں استحصال سے مکمل تحفظ حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس مقصد کے لیے بین الاقوامی سطح پر عزم کا اظہار متعلقہ ILO کنونشنز کی توثیق سے ظاہر ہوتا ہے، جن میں روزگار کی کم از کم عمر اور چائلڈ لیبر کی بدترین شکلوں کے خاتمے سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ ہے۔

وزیرِاعظم کے مطابق اس حکمتِ عملی میں قانون سازی میں اصلاحات، مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، تعلیم اور معاشی بااختیاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ باعزت روزگار کے فروغ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کو حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) بچوں کے حقوق کی نگرانی اور قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن ادارے کمزور اور متاثرہ بچوں کو تحفظ، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقین، بشمول آجران، مزدور تنظیموں، اور سول سوسائٹی کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتوں نے بھی چائلڈ لیبر کے خلاف قابلِ ذکر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں، جبکہ ہر صوبے میں ویجیلنس کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غربت چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، اسی لیے حکومت محدود وسائل کے باوجود سماجی تحفظ کے پروگرامز، تعلیمی معاونت کے منصوبوں اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ’’وسیلۂ تعلیم‘‘ اور پاکستان بیت المال کے چائلڈ لیبر اسکولز اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دانش اسکولز منصوبے کے ذریعے ہزاروں مستحق بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بہتر مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی اداروں بشمول ILO، یونیسف، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون سے لیبر گورننس کو بہتر بنانے اور چائلڈ لیبر کے خاتمے میں پیش رفت تیز ہو رہی ہے۔

انہوں نے تمام آجران، مزدوروں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مقصد میں حکومت کا ساتھ دیں۔ ان کے مطابق یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ، بااختیار اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے برابر مواقع رکھتا ہو۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post جنوبی قفقاز میں نئی جغرافیائی حقیقت کی تشکیل، آذربائیجان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے: فرید شفیف