
عالمی شہری فورم میں پاکستان کا مؤقف—وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا خطاب، موسمیاتی تبدیلی کو “انصاف کا بحران” قرار
باکو، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مسدق ملک نے اتوار کے روز ورلڈ اربن فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک “انصاف کا بحران” ہے جو پاکستان کے شہری علاقوں میں غریب اور کمزور طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے۔
آذربائیجان کے شہر باکو میں جاری عالمی شہری فورم کے موقع پر پاکستان کا قومی وزارتی بیان پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری عدم مساوات، موسمیاتی خطرات اور ناکافی رہائشی سہولیات نے ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان میں ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور کمزور شہری ڈھانچے کے نتیجے میں مزید غربت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔
وزیر نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک متاثرہ بچے کی تصویر کا ذکر کیا جو اپنے گھر کے بہہ جانے کے بعد پھٹی ہوئی کاپی ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مناظر اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ کمزور اور غیر محفوظ رہائشی ڈھانچے کے باعث “دو نسلوں کی محنت لمحوں میں ضائع ہو جاتی ہے” اور متاثرہ خاندان طویل عرصے تک غربت کے چکر سے نہیں نکل پاتے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے ہاؤسنگ بحران کو خیرات کے بجائے انصاف کے تناظر میں دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا: “یہ ہاؤسنگ کا بحران نہیں، یہ انصاف کا بحران ہے۔”
مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی موسمیاتی جھٹکوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے، جہاں ملک کی تقریباً 24 کروڑ آبادی میں سے تقریباً نصف شہروں میں رہتی ہے، جبکہ ان میں سے تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ افراد کچی آبادیوں اور ناقص بنیادی ڈھانچے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچی آبادیاں صرف ایک پالیسی کی کیٹیگری نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی حقیقت ہیں، جہاں چھ سے آٹھ افراد دو کمروں کے گھروں میں بجلی، صفائی اور بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔
وزیر نے کراچی میں 2024 کی ہیٹ ویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جس کے دوران ایک فلاحی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سات روز میں تقریباً 560 لاشیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کی گئیں، جن میں زیادہ تر غریب اور محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والے سیلابوں میں تقریباً 6 ہزار افراد جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی یا معذور ہوئے، اور تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ ان کے مطابق ان آفات کے طویل المدتی اثرات تعلیم کے نقصان اور سماجی انتشار کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بچے 90 دن اسکول نہ جا سکیں تو تقریباً 1.8 ارب تعلیمی دن ضائع ہو جاتے ہیں، جو مستقبل کی ترقی پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔
مصدق ملک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتیں اگرچہ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر اقدامات کر رہی ہیں، تاہم سستی رہائش اب بھی بنیادی حق کے بجائے فلاحی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہمیں رہائش سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے بنانی چاہیے۔”
عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “باکو کال فار ایکشن” میں عدم مساوات، رہائشی قیاس آرائی اور موسمیاتی انصاف کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ جب ہم رہائش کی بات کرتے ہیں تو وہ کس کے لیے ہے؟ کیا واقعی سب کے لیے؟