
صدر مملکت آصف علی زرداری کی 1448 ہجری کے آغاز پر قوم اور امت مسلمہ کو مبارکباد، اتحاد و یگانگت کے فروغ پر زور
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلامی نئے سال 1448 ہجری کے آغاز پر پوری قوم اور امت مسلمہ کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہجرتِ مدینہ اور حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
نئے ہجری سال کے آغاز پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہجرتِ نبوی ﷺ کی اس تاریخی عظیم واقعے کی یاد دلاتا ہے جب نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرامؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ انہوں نے اس واقعے کو صبر، قربانی، بھائی چارے، ایثار اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے کی لازوال مثال قرار دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہجرتِ مدینہ یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں محض مادی وسائل سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار، عدل و انصاف، دیانت، اتحاد اور اجتماعی مقصد کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی ریاست نے رواداری، قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، باہمی احترام اور فلاحِ عامہ کے ایسے اصول قائم کیے جو آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے پاکستانی عوام پر زور دیا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر رواداری، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دیں اور فرقہ واریت، انتہا پسندی، نفرت اور تعصب کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پاکستان کو پرامن، مستحکم اور خوشحال ملک بنانے میں کردار ادا کریں۔
محرم الحرام کے تقدس کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یہ مہینہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء کی عظیم قربانیوں اور واقعہ کربلا کے آفاقی اسباق کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؓ کا اسوہ انسانوں کو اجتماعی شعور کے ساتھ اپنے طرزِ عمل کو ہم آہنگ کرنے اور ملک کو درپیش معاشی و سماجی چیلنجز کے حل کے لیے غیر متزلزل اتحاد کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام داخلی تقسیم اور مایوسی پر قابو پانے کی ترغیب دیتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے جو قوم کو ہر قسم کے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔
صدر مملکت نے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مومنین ایک جسم کی مانند ہیں، جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے ہمدردی، بھائی چارے، ایثار اور تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ باہمی اختلافات، تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق باہمی اتحاد، کمزور طبقات کی مدد اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدر مملکت نے قوم پر زور دیا کہ وہ نیا ہجری سال قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے، قانون کی بالادستی قائم رکھنے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کے ساتھ منائیں۔
انہوں نے دعا کی کہ نیا اسلامی سال پاکستان، امت مسلمہ اور پوری انسانیت کے لیے امن، برکت، رحمت اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔