
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی و ٹیلی کام امور کا جائزہ اجلاس، آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے امور سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک میں گھریلو انٹرنیٹ کنیکشنز کی تعداد 2024 میں 19 لاکھ سے بڑھ کر رواں سال 51 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات کے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان آئی ٹی کے میدان میں بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں اور ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں آسان خدمت مراکز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے، جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک بھر میں بھی ان مراکز کے قیام کے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی شعبے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کم کرنے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح کی حکومتوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔
اجلاس کو آئی ٹی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں حالیہ 5 جی سروسز کی نیلامی دنیا میں 2016 کے بعد اپنی نوعیت کی سب سے بڑی نیلامی تھی، جس سے ملک کو 509 ملین ڈالر آمدن حاصل ہوئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے فروری 2025 میں “انڈس اے آئی ویک” کا انعقاد کیا گیا، جس کے تحت 30 شہروں میں تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی، جبکہ 88 پویلینز بھی قائم کیے گئے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اسکولوں اور صحت مراکز کو فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں مفت انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹس کی فراہمی کا منصوبہ حتمی مراحل میں ہے۔
شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ سیدپور ماڈل ویلیج اور فاطمہ جناح پارک میں ای لرننگ پوڈز نصب کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ اور شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی۔