
وزیراعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولرائزیشن منصوبے کی تیز رفتار تکمیل کی ہدایت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف کو منگل کے روز بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کے تحت گلگت بلتستان میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کا عمل دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ بلتستان ڈویژن کا حصہ اکتوبر 2026 تک پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں شمسی توانائی منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر جاری کام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خطے بھر میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے لیے 18 میگاواٹ کا منصوبہ زیرِ عمل ہے۔ گلگت اور دیامر ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ بلتستان ڈویژن میں یہ کام اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔
حکام نے مزید آگاہ کیا کہ گلگت، اسکردو، چلاس اور خپلو میں گھریلو صارفین کے لیے 82 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد مقامی آبادی کو ماحول دوست اور کم لاگت توانائی فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے منصوبے پر عملدرآمد میں شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر مرحلے پر آزاد اور غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ معیار اور شفافیت برقرار رہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔