پنجاب

پنجاب کا 5,903 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج

Read Time:2 Minute, 34 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: صوبائی وزیر خزانہ مصدق شجاع الرحمان نے پیر کے روز مالی سال 2026-27 کے لیے 5 ہزار 903 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابا دیکھنے میں آیا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا: “ہم نے کبھی کھوکھلے وعدے نہیں کیے بلکہ جو وعدے کیے وہ پورے کر کے دکھائے ہیں۔” اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔

بجٹ کا حجم موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 1,962.93 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو رواں سال کے مقابلے میں 3.1 فیصد کم ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی کفایت شعاری اور مالی نظم و ضبط کی پالیسی ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں تنخواہوں کا مجموعی خرچ صرف 1.4 فیصد بڑھ کر 638.93 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس سے پنشن اخراجات 500.12 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے۔

مقامی حکومتوں کے لیے صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے تحت 803.88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو 5.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

خدمات کی فراہمی کے اخراجات کا تخمینہ 783.62 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں 578.62 ارب روپے سرکاری اداروں کے جاری اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اخراجات 5.1 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے لیے جاری سرمائے کے اخراجات کے تحت 679.01 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران 2,638 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے جن کی مالیت 1,150 ارب روپے ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے 752 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے تحت پنجاب کو 4,390.94 ارب روپے کی منتقلی متوقع ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ ہے۔

صوبے کی اپنی آمدن بڑھانے کے لیے مجموعی ریونیو ہدف 1,209.86 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو 528.50 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کو 86.19 ارب روپے جبکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو 124 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے۔

نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 461.17 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب نے بغیر کسی اضافی ٹیکس بوجھ کے اپنی تاریخ کی بلند ترین ریونیو کارکردگی حاصل کی ہے، جو ٹیکس نیٹ کی توسیع اور اصلاحات کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک ریونیو ہدف کا 99 فیصد حاصل کر لیا جائے گا، جس سے صوبے کی مالی خود کفالت مزید مضبوط ہوگی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر مملکت اور وزیراعظم کا مردان کے قریب پی اے ایف طیارہ حادثے پر اظہارِ افسوس، شہداء کو خراجِ عقیدت
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولرائزیشن منصوبے کی تیز رفتار تکمیل کی ہدایت