17 کھرب روپے

وفاقی بجٹ 2026-27: 17 کھرب روپے ٹیکس ہدف، تنخواہ دار طبقے و رئیل اسٹیٹ کو ریلیف جبکہ متعدد شعبوں پر نئے ٹیکس عائد

Read Time:3 Minute, 21 Second

اسلام آباد — وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 17 کھرب روپے کا مجموعی محصولات کا ہدف مقرر کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری شعبے کو 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے، جبکہ 306 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔

حکومتی منصوبے کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے برعکس حکومت نے بعض شعبوں میں اضافی ٹیکس اقدامات کے ذریعے محصولات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 15.264 کھرب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے 306 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات اور 354 ارب روپے کے نفاذی اقدامات شامل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پٹرولیم لیوی سے 1.68 کھرب روپے، کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے 50 ارب روپے اور الیکٹرک وہیکل اپنانے کے ٹیکس سے 22.8 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 1,914 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم یا کم کرنے اور 3,125 ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی ہے، جبکہ 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کا سلیب متعدد شعبوں میں ختم کیا جا رہا ہے۔

جوائنٹ سیکرٹری کامرس محمد اشفاق کے مطابق قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے مرحلے میں درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کے باعث 180 ارب روپے کی رعایت دی گئی ہے، جبکہ اوسط وزنی ٹیرف شرح کم ہو کر 13 فیصد رہ گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے، جس کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار روپے آمدن پر شرح 25 فیصد، 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک 29 فیصد، اور 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک 32 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد شرح برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اس کی حد 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ہے، جس سے ایک فرد کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 57 ہزار روپے تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کی ٹیکس رعایت فراہم کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

بجٹ میں دیگر اہم اقدامات کے تحت برآمدی آمدن پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس آئندہ تین سال کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔ بیرون ملک کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈ لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل نظام سے منسلک سرمایہ کاری پر 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ متعدد فلاحی اداروں کی ٹیکس چھوٹ میں توسیع بھی کی گئی ہے۔ بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت حکومت نے 180 ارب روپے کی مزید رعایتیں فراہم کی ہیں، جن میں مختلف ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی شامل ہے۔ بعض درآمدی گاڑیوں اور انجن کی بڑی کیٹیگریز پر ریگولیٹری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جن میں 2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد اور 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت والی گاڑیوں پر 40 فیصد FED شامل ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف آئی ایم ایف پروگرام کی باقاعدہ شرط ہوگا، اور کسی بھی کمی کی صورت میں حکومت کو عالمی مالیاتی ادارے سے رعایت لینا پڑے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شوشا Previous post آذربائیجان کی پارلیمنٹ نے شوشا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق قانون میں ترامیم منظور کر لیں
ڈیجیٹل Next post سویڈن میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے اسمارٹ فون استعمال پر پابندی کی سفارش، ڈیجیٹل تحفظ پر بحث تیز