زبان

تاجک زبان قومی شناخت اور خود آگاہی کی علامت قرار، دوشنبے میں سیمینار کا انعقاد

Read Time:2 Minute, 23 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کی حکومت کے تحت قائم زبان و اصطلاحات کمیٹی کے زیر اہتمام ’’زبان، قومی خود شناسی اور خود آگاہی کی علامت‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں سرکاری زبان کے تحفظ، فروغ اور اس کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سخیدود رحمت اللّٰہ زادہ نے قومی ریاستی نظام اور سماجی و سیاسی ترقی میں تاجک زبان کے مقام اور اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ تاجکستان کی زبان سے متعلق پالیسی اور ریاستی زبان کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات قومی تشخص کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری زبان کا تحفظ، ترقی اور استحکام ریاستی بنیادوں اور قومی وجود کے اہم ستونوں میں شامل ہے۔ مقررین کے مطابق تاجک زبان نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ قومی اقدار، تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کے تحفظ کا بنیادی وسیلہ بھی ہے۔

زبان و اصطلاحات کمیٹی کے نائب چیئرمین فیض الدین باروت زادہ نے کہا کہ تاجک زبان ہزاروں سال کی تاریخی روایت اور وسیع لغوی ذخیرے کی حامل ہے اور آج معاشرتی زندگی کے تمام شعبوں میں مؤثر طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے بعد زبان کی ترقی کے لیے قانونی اور سیاسی ماحول میسر آیا، جس کے نتیجے میں حکومت مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے۔

قومی مرکز برائے ترجمہ کے ڈائریکٹر ہمراخون دوست زادہ نے بتایا کہ آزادی کے بعد ملک میں سرکاری زبان کی ترقی کے لیے متعدد پروگرام مرتب اور نافذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ’’جمہوریہ تاجکستان میں سرکاری زبان کی ترقی کے پروگرام 2020-2030‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ آئندہ دہائی میں زبان کے فروغ اور ریاستی زبان سے متعلق قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے رہنما دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ املا کے جدید قواعد و ضوابط پر عمل درآمد سرکاری دستاویزات، سرکاری مراسلت، سائنسی مواد اور ذرائع ابلاغ میں زبان کے معیار اور یکسانیت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا، جبکہ املا سے متعلق اختلافات کی روک تھام میں بھی مدد دے گا۔

سیمینار میں اصطلاحات کی تیاری، ناموں کے اندراج، مرکب الفاظ کے استعمال اور زبان کے صرفی و نحوی عناصر میں درست قواعد کے نفاذ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس سے معاشرے میں مجموعی شرحِ خواندگی اور لسانی معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

مقررین نے سرکاری زبان کی اہمیت، لسانی قوانین کی پاسداری، تاجک زبان کے املا کے اصولوں اور دستاویز نویسی کی ثقافت پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ تاجک زبان قومی خود شناسی کا ایک بنیادی عنصر ہے اور یہ تاجک قوم کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کی آئینہ دار ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
وزیرستان Previous post شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن: وزیرِ اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
گلگت Next post گلگت بلتستان انتخابات: غیر سرکاری نتائج میں پیپلز پارٹی آگے