تاجکستان

صدرِ تاجکستان امام علی رحمان کا ترسون زودہ میں انگور کی برداشت اور زرعی پیداوار کا جائزہ

Read Time:3 Minute, 27 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قوم کے رہنما امام علی رحمان نے جمعہ کے روز ترسون زودہ شہر میں واقع ’’بوغی سومون‘‘ دہقان فارم کا دورہ کیا اور وہاں جاری انگور کی برداشت کی مہم کا جائزہ لیا۔

صدرِ تاجکستان کو بتایا گیا کہ فارم میں اس وقت تقریباً 500 ہیکٹر رقبے پر پھل دار انگور کے باغات موجود ہیں، جہاں انگور کی برداشت جاری ہے اور تازہ پیداوار ملکی و غیر ملکی منڈیوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ فارم میں حسینئی، سفید و سیاہ اقسام، شاہونا اور پریزیڈنٹ سمیت انگور کی تقریباً 10 اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔

بوغی سومون فارم میں ایک ہزار 100 سے زائد حصص دار ہیں، جبکہ انگور کی برداشت کے موسم کے دوران مقامی آبادی کے تقریباً 4 ہزار افراد موسمی بنیادوں پر روزگار حاصل کرتے ہیں۔

تاجکستان کے 2025-2029 کے باغبانی، انگور اور ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کی ترقی کے پروگرام کے تحت فارم میں 50 ہیکٹر پرانے انگور کے باغات کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت بنیادی توجہ برآمدی اقسام کی کاشت پر مرکوز ہے، جن میں شاہونا، پریزیڈنٹ، اوتار اور کارڈینل شامل ہیں، جن کی عالمی منڈیوں میں طلب زیادہ ہے۔

صدر امام علی رحمان نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کریں، جدید زرعی طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنائیں، فصل کی بروقت برداشت کریں اور فارم کی برآمدی صلاحیت کو مزید وسعت دیں۔

تاجکستان کی آزادی کے بعد سے صدرِ مملکت کی رہنمائی اور تعاون سے ترسون زودہ میں 2,730 ہیکٹر رقبے پر نئے انگور کے باغات قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں زیادہ تر برآمدی اقسام کے انگور کاشت کیے جاتے ہیں۔ رواں سال شہر میں انگور کے کاشتکاروں کو 3,970 ہیکٹر رقبے پر قائم باغات سے فصل حاصل ہونے کی توقع ہے۔

وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والی فصل سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے بوغی سومون فارم کا کولڈ اسٹوریج مرکز سرد موسم شروع ہونے سے قبل 3 ہزار ٹن تک زرعی پیداوار ذخیرہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیداوار 2026-2027 کے موسم سرما اور بہار کے دوران صارفین کو فراہم کی جائے گی۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ترسون زودہ میں 33 نئے کولڈ اسٹوریج مراکز قائم کیے گئے ہیں، جس کے بعد شہر میں ایسے مراکز کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے۔ ان مراکز میں مجموعی طور پر 26,470 ٹن زرعی مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

دورے کے دوران صدر امام علی رحمان نے ترسون زودہ میں تیار ہونے والی زرعی مصنوعات کی نمائش بھی دیکھی، جہاں انہیں زرعی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ حکومت کی مسلسل حمایت، سائنسی اداروں اور زرعی پیداوار کے درمیان تعاون میں اضافے، کاشتکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

زرعی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کے تحت گزشتہ پانچ برسوں میں ترسون زودہ میں 67.4 ہیکٹر رقبے پر گرین ہاؤسز قائم کیے گئے ہیں، جس کے بعد شہر میں گرین ہاؤسز کا مجموعی رقبہ 84 ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔

گرین ہاؤسز کے شعبے میں توسیع کے باعث سال بھر سبزیوں کی کاشت ممکن ہوئی ہے، جس سے مجموعی غذائی پیداوار میں اضافہ اور موسم سرما و بہار کے دوران تازہ سبزیوں کی طلب پوری کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

زرعی مصنوعات کی نمائش کے موقع پر صدر امام علی رحمان نے متعلقہ حکام اور کسانوں کو ہدایت کی کہ فصلوں کی بروقت اور نقصانات سے پاک برداشت یقینی بنائی جائے، زرعی برآمدات میں اضافے کے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، گوداموں اور کولڈ اسٹوریج مراکز میں غذائی ذخائر مضبوط کیے جائیں اور زرعی اراضی سے سالانہ تین سے چار فصلیں حاصل کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

ترسون زودہ میں پیش کی جانے والی متنوع زرعی مصنوعات کی نمائش نے مقامی کسانوں کی محنت اور خطے میں زرعی پیداوار کی فراوانی کو اجاگر کیا۔ یہ کامیابیاں تاجکستان کی حکومت کے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے تزویراتی ہدف پر عملی پیش رفت کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
روس Previous post یومِ آزادی پر صدرِ روس ولادیمیر پوتن کا صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کے نام تہنیتی پیغام
زرداری Next post صدر زرداری کا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی کوششوں کا خیرمقدم