شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کی لائیوسٹاک شعبے میں اصلاحات، برآمدات بڑھانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت

Read Time:3 Minute, 41 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے لائیوسٹاک شعبے کو کارپوریٹ بنیادوں پر ازسرنو منظم کرنے اور اس کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی منظوری دیتے ہوئے خصوصی مویشی فارمز کے قیام اور برآمدی مقاصد کے لیے اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی بہتر نسل کے مویشیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے یہ ہدایات لائیوسٹاک شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائیوسٹاک شعبے میں اصلاحات کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مویشیوں کی برآمد کے لیے خصوصی فارمز قائم کیے جائیں، جہاں اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی بہتر نسل کے مویشی درآمد کرکے ان کی افزائش کی جائے اور بعد ازاں انہیں برآمد کیا جائے۔ وزیراعظم نے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے جدید مویشی ٹیگنگ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی تاکہ ان فارمز میں پالے جانے والے مویشیوں کی برآمد کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ لائیوسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اسے کارپوریٹ ماڈل پر منظم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کی مہارت سے استفادہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لائیوسٹاک شعبہ ملکی زرعی معیشت کا 60 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے اور اس میں برآمدات بڑھانے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔ وزیراعظم نے ملک سے منہ کھر کی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے واضح اہداف پر مشتمل جامع منصوبہ تیار کرکے آئندہ دو ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن یقینی بنانے اور عالمی معیار کی پاسداری کی تصدیق کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا نظام وضع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مویشیوں میں پائی جانے والی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

انہوں نے گوشت اور لائیوسٹاک کی برآمدی صنعت کو مزید فروغ دینے کے لیے پوری ویلیو چین کو بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گوشت، مویشیوں اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے واضح اہداف مقرر کرکے پیش کیے جائیں۔

اجلاس کے دوران لائیوسٹاک شعبے کی مجموعی صورتحال، اس کی ترقی کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل اور برآمدات میں اضافے سے متعلق تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی موجود ہیں جن کی مجموعی تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 5.5 ٹریلین روپے ہے۔ لائیوسٹاک شعبہ ملکی معیشت میں 14.97 فیصد جبکہ زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیوسٹاک سے وابستہ ہیں، تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کے رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین کے باعث برآمدی صلاحیت سے بھرپور استفادہ نہیں کیا جا رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں، جن میں زیادہ تر برآمدات متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر سمیت خلیجی ممالک کو کی گئیں۔ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کو نئی اور بڑھتی ہوئی منڈیوں کے طور پر اہم مواقع کا حامل قرار دیا گیا۔

اجلاس کو لائیوسٹاک اور گوشت کی برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان اقدامات میں جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، تحفظ اور ٹریس ایبلٹی کا قومی پروگرام، منہ کھر سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام، ویکسینیشن اور بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، برآمدی معیار کے فارمز کا قیام اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کا نظام شامل ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حکومت فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین انفراسٹرکچر، ڈی بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی بنیادی ڈھانچے کے فروغ پر بھی توجہ دے رہی ہے، جبکہ 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب اور عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان، پولینڈ تعلقات کو کثیرالجہتی شراکت داری میں بدلنے کے عزم کا اعادہ