ویتنام

ویتنام کا اسٹریٹجک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور گرین انرجی کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ، 2045 تک اعلیٰ آمدنی والا ملک بننے کا ہدف

Read Time:5 Minute, 22 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور معیشت کو اعلیٰ قدر پر مبنی سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز، تحقیق و ترقی، گرین ٹرانسفارمیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں معیاری غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویتنام کے نائب وزیر خزانہ لے تان کان نے 3 نومبر کو ہوچی منہ سٹی میں منعقدہ پہلے ’’فارچیون ساؤتھ ایسٹ ایشیا 500 سمٹ 2026‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سرمایہ کاری کی ترجیحات اور اقتصادی اہداف پر روشنی ڈالی۔ سمٹ میں 250 سے زائد کاروباری رہنماؤں، پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام 2026 سے 2030 کے دوران سالانہ دو ہندسوں کی اقتصادی ترقی حاصل کرنے اور 2045 تک اعلیٰ آمدنی والے ممالک کی صف میں شامل ہونے کے ہدف کے تحت خود کو خطے میں جدت، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی مالیات کے مرکز کے طور پر متعارف کرانا چاہتا ہے۔

نائب وزیر خزانہ کے مطابق عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ویتنام نے مضبوط معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 9.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مستقبل کے اقتصادی اہداف کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ویتنام بدستور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل کر رہا ہے، بالخصوص ہائی ٹیک صنعتوں، سیمی کنڈکٹرز اور گرین انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی سرمایہ کاری حکمت عملی روایتی مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر جدت پر مبنی ایک ایسے نظام کی تشکیل پر مرکوز ہے جو کثیرالقومی کمپنیوں اور مقامی کاروباری اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو فروغ دے۔

لے تان کان نے کہا کہ حکومت ایسے سرمایہ کاروں کو ترجیح دے رہی ہے جو بنیادی ٹیکنالوجیز، جدید انتظامی مہارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ماحول دوست ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے عملی عزم رکھتے ہوں۔

انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کے لیے پانچ اہم ترجیحات کا بھی ذکر کیا، جن میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، بائیو ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق و ترقی، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید لاجسٹکس میں سرمایہ کاری، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباری اداروں کے درمیان روابط کا فروغ، ہنرمند افرادی قوت اور علمی نظام کی ترقی، جبکہ ویتنام میں بین الاقوامی مالیاتی مراکز کے قیام میں تعاون شامل ہیں۔

انہوں نے نجی شعبے کو مضبوط بنانے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے مستحکم، شفاف اور سازگار ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا۔

دوسری جانب ہوچی منہ سٹی پیپلز کمیٹی کے مستقل نائب چیئرمین نگوین لوک ہا نے کہا کہ جولائی 2025 میں سابق صوبوں بنہ دونگ اور با ریا ونگ تاؤ کے انضمام کے بعد شہر کی اقتصادی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 14 ملین سے زائد آبادی رکھنے والا ہوچی منہ سٹی ویتنام کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 23.5 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور اسے بین الاقوامی مالیات، ٹیکنالوجی، جدت اور تجارت کے مسابقتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق شہر نے 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران 19 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ اور ملک کی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کے 30 فیصد سے زائد کے برابر ہے۔

سرمایہ کاری کے نمایاں منصوبوں میں کین جیو بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ کا 4.9 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا منصوبہ اور تقریباً 2.1 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے مصنوعی ذہانت پر مبنی فیکٹری ڈیٹا سینٹر منصوبہ شامل ہیں۔

نگوین لوک ہا نے کہا کہ شہر بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباری اداروں کے درمیان مینوفیکچرنگ، تحقیق اور خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے تاکہ ویتنامی کمپنیوں کو علاقائی منڈیوں تک رسائی اور عالمی مسابقت میں بہتری کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، توانائی کے انتظام، افرادی قوت کی تربیت، بین الاقوامی مالیاتی مرکز، آزاد تجارتی زونز اور لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو سرمایہ کاری کے اہم ترجیحی شعبے قرار دیا۔

فارچیون کے ایشیا کے ادارتی ڈائریکٹر اور فارچیون ساؤتھ ایسٹ ایشیا 500 سمٹ کے شریک چیئرمین اینڈریو اسٹیپلز نے کہا کہ ویتنام کی تیز رفتار اقتصادی ترقی ان اہم وجوہات میں شامل ہے جن کی بنیاد پر پہلے سمٹ کے انعقاد کے لیے ہوچی منہ سٹی کا انتخاب کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جنوب مشرقی ایشیا کی 500 بڑی کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 1.9 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس فہرست میں شامل ویتنام کی 72 کمپنیوں کی مجموعی آمدنی میں 10.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو علاقائی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔

’’نیو ہورائزنز، اینڈیورنگ گروتھ‘‘ (نئے امکانات، پائیدار ترقی) کے عنوان سے منعقدہ سمٹ میں بینکاری، توانائی، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری اور صنعتی رہنماؤں نے شرکت کی۔ شرکاء نے جنوب مشرقی ایشیا کی عالمی مسابقت، علاقائی کثیرالقومی کمپنیوں کے ابھرتے ہوئے کردار اور اقتصادی ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت، توانائی، علاقائی رابطوں، بین الاقوامی مالیات اور عالمی سطح پر مسابقت کی حامل کاروباری کمپنیوں کی ترقی کے لیے حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی سپلائی چین کی ازسرنو تشکیل کے تناظر میں جنوب مشرقی ایشیا، بالخصوص ویتنام، سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔

تاہم مقررین نے واضح کیا کہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول کافی نہیں بلکہ ممالک کو اپنی مقامی صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ، جدت و تحقیق کا فروغ، مسابقتی مقامی کاروباری اداروں کی ترقی اور عالمی سپلائی چین کے زیادہ قدر والے شعبوں میں اپنی شرکت یقینی بنانا ہوگی۔

سمٹ کے شرکاء نے اتفاق کیا کہ علاقائی اقتصادی انضمام، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت اور مقامی صنعتی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری جنوب مشرقی ایشیا کی عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تجارتی رجحانات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں قرضوں کی فراہمی تیز کرنے پر زور، بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور آسٹریا کا دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور سیاسی، سفارتی، تجارتی، اقتصادی و ثقافتی تعاون کے فروغ پر اتفاق