انڈونیشیا

انڈونیشیا کا بلیو کاربن ماحولیاتی نظام کے تحفظ و انتظام کیلئے قومی ایکشن پلان (2025–2030) کا اجرا

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے بدھ کے روز بلیو کاربن ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور انتظام کے لیے قومی ایکشن پلان (ریناکسی) 2025–2030 کا آغاز کر دیا، جس کا مقصد مینگرووز اور سی گراس کی بحالی کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانے کی قومی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

کوآرڈی نیٹنگ وزارت برائے خوراک کی عہدیدار نانی ہندی آرتی نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ ریناکسی دستاویز میں عملدرآمد کی حکمت عملی کو مالیاتی ذرائع کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے، جو صنفی مساوات، معذور افراد کی شمولیت اور سماجی شمولیت (جی ای ڈی ایس آئی) کے اصولوں پر مبنی ہے۔

18 فروری کو ریناکسی کے اجرا کے ساتھ انڈونیشیا نے دنیا کے تقریباً 17 فیصد بلیو کاربن ذخائر کے حامل ملک کے طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ملک میں 34 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر مینگرووز کے جنگلات اور 6 لاکھ 60 ہزار ہیکٹر سی گراس کے میدان موجود ہیں، جو اس صلاحیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

ریناکسی کی تیاری میں کوآرڈی نیٹنگ وزارت برائے خوراک نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ نیشنل بلیو کاربن ایکشن پارٹنرشپ (این بی سی اے پی) نے اس عمل میں سہولت کاری کی۔ کنزرویشن انڈونیشیا نے اس کثیر فریقی شراکت داری کے سیکریٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

نانی ہندی آرتی کے مطابق ریناکسی بلیو کاربن کے تحفظ کو جامع مالی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک قومی معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 21 ایکشن پلانز کو مختلف شعبوں کے مابین رابطہ کاری کے ذریعے ترجیحی پروگراموں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان کے براہ راست سماجی اثرات کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عزم کو 2026 میں بالی میں منعقد ہونے والی اوشن امپیکٹ سمٹ میں بھی پیش کیا جائے گا تاکہ قومی سطح پر بلیو کاربن گورننس کو مزید تقویت دی جا سکے۔

برطانوی سفارتخانے نے بھی ریناکسی 2025–2030 کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوطرفہ ماحولیاتی شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ سفارتخانے کے مطابق یہ منصوبہ انڈونیشیا کے نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) اور فولو نیٹ سنک 2030 اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔

ادھر ورلڈ اکنامک فورم نے بھی انڈونیشیا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بالی میں منعقد ہونے والی اوشن امپیکٹ سمٹ سبز سرمایہ کاری اور بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع فراہم کرے گی۔

الیکٹرک Previous post اسلام آباد میں الیکٹرک بسوں کے نئے بیڑے اور جدید ڈپو کا افتتاح، پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کی جانب اہم پیش رفت
روبیو Next post وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات، دوطرفہ تجارت اور انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے پر اتفاق