
تاجکستان کی قومی اسمبلی کونسل کا اجلاس، آئینی ترامیم اور اہم قانون سازی کی منظوری
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: جمہوریہ تاجکستان کی اعلیٰ اسمبلی (مجلس عالی) کے ایوانِ بالا مجلسِ ملی کے ساتویں دور کے کونسل اجلاس کا انعقاد دارالحکومت دوشنبے میں مجلسِ ملی کے چیئرمین اور دوشنبے کے میئر رستم امام علی کی زیرِ صدارت ہوا۔
اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق اراکین نے مجموعی طور پر 47 نکات پر غور کیا، جن میں مختلف آئینی قوانین، قانون سازی میں ترامیم اور تقرریوں سے متعلق امور شامل تھے۔
اجلاس میں ’’جمہوریہ تاجکستان کی عدالتوں‘‘ اور ’’جمہوریہ تاجکستان کی حکومت‘‘ سے متعلق آئینی قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ ابتدائی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور معذور افراد کے حقوق و سماجی ضمانتوں کے تحفظ سے متعلق قوانین بھی منظور کیے گئے۔
کونسل نے فوجداری، فوجداری طریقۂ کار، محنت، صحت اور ٹیکس سے متعلق ضابطوں (کوڈز) میں متعدد ترامیم اور اضافوں کی بھی منظوری دی۔
اجلاس کے دوران مزید 30 مسودہ قوانین کا جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد موجودہ قانون سازی میں مزید ترامیم اور اضافے متعارف کرانا ہے۔
ایجنڈے میں شامل انتظامی و عدالتی امور کے تحت صدرِ تاجکستان کی جانب سے آئینی عدالت کے ججوں کی سبکدوشی اور نئے ججوں کے انتخاب، سپریم کورٹ کے ایک جج کو واپس بلانے، جبکہ سپریم اقتصادی عدالت کے ججوں کی واپسی اور نئے ججوں کے انتخاب سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں قانون سازی کے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور عدالتی نظام سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری کو تاجکستان کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔