
انڈونیشیا کے نائب صدر کی طلبہ و اساتذہ کو مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے نائب صدر جبران راکابومنگ راکا نے طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا اور وسیع ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں مہارت حاصل کریں۔
منگل کو اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں جبران راکابومنگ راکا نے کہا کہ اب آنکھیں بند رکھنے یا محض تماشائی بنے رہنے کا وقت نہیں رہا، بلکہ ہر فرد کو اس ٹیکنالوجی کا ماہر بن کر اس عمل کا فعال حصہ بننا ہوگا۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو سیکھنے کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے والے ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسی آسان راہ کے طور پر جو سستی اور کاہلی کو فروغ دے۔
نائب صدر نے اے آئی کو ایک ذاتی معاون سے تشبیہ دی جو معلومات جمع کرنے، نئی زبانیں سیکھنے اور پیچیدہ ریاضیاتی فارمولوں کو سمجھنے جیسے امور کو آسان بناتی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی پر انحصار نوجوان نسل کی تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیتوں کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بنیادی مقصد تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور آزادانہ سوچ کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔
جبران نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجیز کی بڑی تعداد اوپن سورس کی شکل میں دستیاب ہے، جہاں علم مفت ہے، کوڈ سب کے لیے کھلا ہے اور ہر شخص اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا انڈونیشیا کے ’’گولڈن انڈونیشیا 2045‘‘ وژن کے حصول کی بنیادی کنجی ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور والدین پر بھی زور دیا کہ وہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور میں اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بناتے رہیں۔
نائب صدر کے مطابق اے آئی کے دانشمندانہ استعمال سے اساتذہ کے انتظامی بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی امتحانی سوالات کی تیاری، دلچسپ تدریسی مواد کی فراہمی اور طلبہ کے لیے عملی مثالوں پر مبنی مطالعاتی مواد تیار کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اخلاقیات اور دیانت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ اسے جھوٹی معلومات پھیلانے، سرقہ (پلیجرزم) یا رازداری کی خلاف ورزی جیسے غیر ذمہ دارانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
جبران راکابومنگ راکا نے مزید بتایا کہ انڈونیشی حکومت نے یونیسکو کے ’’ریڈینس اسیسمنٹ میتھوڈولوجی‘‘ کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ملک کے اے آئی گورننس نظام کی تیاری اور صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا، ’’آئیے مصنوعی ذہانت کو ایک ایسے پل میں تبدیل کریں جو ایک زیادہ ترقی یافتہ، روشن اور باوقار انڈونیشیا کی جانب ہماری رہنمائی کرے۔‘‘