انڈونیشیا

انڈونیشیا کا فری نیوٹریشس میلز پروگرام روزانہ غذائی ضروریات کا ایک تہائی پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے

Read Time:2 Minute, 16 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی نیشنل نیوٹریشن ایجنسی (BGN) نے پیر کے روز وضاحت کی ہے کہ فری نیوٹریشس میلز (MBG) پروگرام کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ مستفید افراد کی روزانہ غذائی ضروریات کا تقریباً ایک تہائی حصہ پورا کرے۔

بی جی این کی نائب سربراہ نانک سوداریاتی دیانگ نے جکارتہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایم بی جی پروگرام کو روزانہ غذائی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔”

انہوں نے یہ وضاحت عوامی حلقوں میں اٹھنے والے ان خدشات کے جواب میں دی کہ ایم بی جی پروگرام کے تحت فراہم کیے جانے والے کھانوں کی غذائیت تجویز کردہ معیار سے کم ہے۔

دیانگ نے بتایا کہ ایم بی جی پروگرام کے مینو مختلف مستفید گروپوں کی توانائی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور دیگر مائیکرو نیوٹریئنٹس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد لوگوں میں صحت مند اور متوازن غذا کے استعمال کی عادت کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ مستقبل میں اعلیٰ معیار کی انسانی افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان بیانیوں کا بھی جواب دیا جن میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا اس منصوبے کے لیے واضح تکنیکی رہنما اصول موجود ہیں یا نہیں۔

دیانگ نے کہا کہ “ایم بی جی پروگرام کے نفاذ سے متعلق تمام تکنیکی تفصیلات عوام کے لیے کھلی ہیں اور یہ دستاویزات بی جی این کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ان رہنما اصولوں میں ایم بی جی کچنز کے آپریشنل معیار، خوراک کی تیاری، غذائی تحفظ اور ہر مینو کی غذائی ترکیب سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام کے حوالے سے عوامی بحث و مباحثہ سرکاری اور مستند معلومات کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ تعمیری مکالمہ ممکن ہو سکے۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ صدر پرابوو سوبیانتو کی ترجیحی حکومتی اسکیموں میں شامل ہے، جس کا آغاز گزشتہ سال 6 جنوری کو کیا گیا تھا۔ 3 مارچ تک اس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں 6 کروڑ 12 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔

اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں میں اسکول کے بچے، کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شامل ہیں۔

صدر پرابوو سوبیانتو نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ 2026 کے اختتام تک اس پروگرام کا دائرہ بڑھا کر تقریباً 8 کروڑ 30 لاکھ افراد تک پہنچایا جائے۔

سماجی امور کے وزیر سیف اللہ یوسف کے مطابق اس سال اس پروگرام کے تحت تقریباً 4 لاکھ بزرگ افراد اور لگ بھگ 36 ہزار معذور افراد کو بھی شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post خواتین کو تعلیم اور معاشی مواقع کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے: وزیراعظم شہباز شریف
ایران Next post ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا