
یورپی گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ایران جنگ سے متعلق امریکی بیانات کے بعد مارکیٹس میں تشویش
برسلز، یورپ ٹوڈے: یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں جمعرات کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں ڈچ ٹی ٹی ایف بینچ مارک کنٹریکٹ 6 فیصد سے زائد بڑھ کر 50 یورو فی میگاواٹ آور سے تجاوز کر گیا، جبکہ مارکیٹس نے ایران جنگ کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد رسد کے خطرات کا ازسرِ نو جائزہ لینا شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو صبح 0655 جی ایم ٹی تک ٹی ٹی ایف کی قیمت تقریباً 50.4 یورو فی میگاواٹ آور کے قریب ٹریڈ کر رہی تھی۔ اس سے قبل حالیہ دنوں میں ممکنہ جنگ بندی اور ایران و امریکہ کے درمیان سفارتی کوششوں کی خبروں کے باعث قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔
تاہم بدھ کی شب امریکی صدر کے سخت بیانات، جن میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے تسلسل کا عندیہ دیا گیا، نے قلیل مدت میں جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کی امیدوں کو کمزور کر دیا۔
یاد رہے کہ فرنٹ منتھ ٹی ٹی ایف کنٹریکٹ، جو یورپ میں قدرتی گیس کی تجارت کے لیے بنیادی اشاریہ سمجھا جاتا ہے، گزشتہ ماہ تاریخی طور پر 78 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور تاجروں کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں، خصوصاً تیل و گیس کی ترسیل کے اہم راستوں کو لاحق خطرات اور یورپ کو مائع قدرتی گیس کی فراہمی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
روس-یوکرین جنگ کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے باعث یورپی گیس مارکیٹس پہلے ہی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہو چکی ہیں، جہاں رسد سے متعلق خدشات قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کا سبب بنتے ہیں۔