
بچوں میں رویہ جاتی عوارض کی تشخیص میں کمی، متعدد کیسز صحت کی خدمات سے اوجھل: سویڈش ادارے کا سروے
اسٹاک ہوم، یورپ ٹوڈے: سویڈن کے نیشنل بورڈ آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے ایک نئے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اپوزیشنل ڈیفائنٹ ڈس آرڈر (Oppositional Defiant Disorder) اور کنڈکٹ ڈس آرڈر (Conduct Disorder) میں مبتلا متعدد بچوں کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی اور وہ صحت کی نگہداشت کی خدمات کی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
سویڈش نیشنل بورڈ آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کی طبی ماہر این-کیٹرین کانٹزر نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ شدید رویہ جاتی مسائل کا شکار بہت سے بچوں کو ان عوارض کے بجائے دیگر تشخیصات دی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) یا آٹزم شامل ہیں۔
سروے کے مطابق تحقیقی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 2 سے 4 فیصد بچے ان عوارض کی تشخیصی شرائط پر پورا اتر سکتے ہیں، تاہم صرف 0.2 سے 0.4 فیصد بچوں کی باقاعدہ تشخیص کی گئی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اپوزیشنل ڈیفائنٹ ڈس آرڈر کا تعلق بچوں میں نشوونما کے مختلف مراحل کے دوران ظاہر ہونے والی عام ضد سے نہیں ہے، بلکہ یہ جذبات پر قابو پانے میں مستقل دشواری، غصے اور جارحانہ رویے سے متعلق ایک سنجیدہ کیفیت ہے۔ اسی طرح کنڈکٹ ڈس آرڈر میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور غیر مناسب رویوں کا رجحان بھی شامل ہوتا ہے۔
این-کیٹرین کانٹزر نے خبردار کیا کہ جب تک بچوں اور نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دی جاتی ہے، اکثر اوقات یہ مسائل انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہوتے ہیں، جس سے بروقت تشخیص اور مداخلت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔