
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امید، اسلام آباد میں مذاکرات متوقع: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اس ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں ہوں گے، جن کا مقصد تقریباً چھ ہفتوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے۔
جمعرات کو این بی سی ٹی وی کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل سے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں کم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے، جو مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی ایران-امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب تہران نے خطے میں امریکی اتحادی ممالک میں قائم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت ملاقاتوں میں میڈیا کے مقابلے میں زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ان تمام نکات سے اتفاق کر رہا ہے جن پر اسے کرنا چاہیے، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منگل کو اعلان کردہ جنگ بندی کو ابتدائی آزمائشوں کا سامنا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے متضاد دعوؤں اور لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایران کی جانب سے وارننگ کے تناظر میں صورتحال نازک ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ان سے کشیدگی کم کرنے پر بات کی ہے اور اسرائیلی افواج لبنان میں اپنی کارروائیاں محدود کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر محتاط اور کم شدت کا مظاہرہ ضروری ہے۔