
ویتنامی صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کی ہُو چی منہ چلڈرن یونین کے نمایاں بچوں سے ملاقات، تعلیم اور اخلاقی تربیت پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام نے جمعرات کو صدارتی محل میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ہُو چی منہ وینگارڈ چلڈرن یونین کے 85 نمایاں بچوں سے ملاقات کی۔ یہ تقریب یونین کے قیام کی 85ویں سالگرہ (15 مئی 1941 تا 2026) کے موقع پر منعقد کی گئی۔
تقریب کے دوران نمایاں بچوں نے پارٹی اور ریاستی قیادت کو اپنی تعلیمی کامیابیوں، ذاتی ترقی، سائنسی، فنی اور کھیلوں کے شعبوں میں دلچسپی اور مستقبل کے عزائم سے آگاہ کیا، جبکہ پارٹی اور ریاست کی جانب سے فراہم کردہ تعاون اور سرپرستی پر اظہار تشکر بھی کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام نے ان بچوں کو ویتنامی بچوں کی بہترین صلاحیتوں اور کردار کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ ایک خوبصورت اور متاثر کن کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 85 نمایاں چہرے دراصل ملک بھر کے لاکھوں بچوں اور یونین اراکین کی محنت، جدوجہد اور روزمرہ نیک اعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے ویتنامی بچے جنگ، غربت اور مشکلات کے دور کے بجائے امن کے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں، تاہم جدید دور میں انہیں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ انہیں تعلیم، معلومات اور ٹیکنالوجی تک زیادہ رسائی حاصل ہے، لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ معلومات کے درست استعمال، ذمہ دارانہ طرز عمل، دیانت داری، نظم و ضبط، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کو اپنائیں۔
صدر ٹو لام نے کہا کہ آج حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ بچے سنجیدگی سے تعلیم حاصل کریں، صحت مند طرز زندگی اپنائیں، سچائی اور انصاف کا دفاع کریں اور غلط کاموں پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔
انہوں نے بانی رہنما صدر ہُو چی منہ کی بچوں سے گہری محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی “پانچ تعلیمات” آج بھی بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور تعلیمی رہنمائی کے لیے بنیادی اقدار کی حیثیت رکھتی ہیں۔
صدر نے اس امر پر زور دیا کہ ہر بچے کے لیے گھر، اسکول، معاشرے اور آن لائن دنیا میں محفوظ اور مساوی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ تمام بچوں کو تعلیم، تفریح، نگہداشت، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں، خواہ ان کا پس منظر یا حالات کچھ بھی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں وطن کے لیے بڑے خواب اور بلند عزائم پیدا کیے جائیں تاکہ وہ زیادہ محنت، بہتر طرز زندگی اور قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی جانب راغب ہوں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اب بھی بہت سے بچے تعلیم، تفریح اور مناسب نگہداشت سے محروم ہیں جبکہ بعض بچے کم عمری میں مشقت، تشدد، استحصال اور لاوارثی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔
صدر ٹو لام نے کہا کہ حالیہ افسوسناک واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے لیے صرف حادثات کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ بروقت روک تھام، ابتدائی نشاندہی، فوری مدد اور تشدد یا غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مہذب معاشرہ اپنی کمزور ترین آبادی، خصوصاً بچوں کے تحفظ سے پہچانا جاتا ہے۔
ہُو چی منہ وینگارڈ چلڈرن یونین کی 85ویں سالگرہ اور 2041 میں تنظیم کی صد سالہ تقریبات کے تناظر میں صدر نے بچوں پر زور دیا کہ وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں، اخلاقی اقدار اپنائیں، صحت مند رہیں، اپنے خوابوں کو زندہ رکھیں اور روزانہ نیک اعمال انجام دیں۔
انہوں نے بچوں کو تشدد، سماجی برائیوں اور نقصان دہ معلومات سے خود کو محفوظ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مستقبل میں ذمہ دار اور باکردار شہری بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
صدر نے متعلقہ اداروں اور حکام پر زور دیا کہ بچوں کی تنظیموں کو محفوظ، فعال اور تخلیقی پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں حب الوطنی، روایات سے محبت، تخلیقی صلاحیتوں، سماجی ذمہ داری اور زندگی کی مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسکول اور تعلیمی ادارے ایسے محفوظ، خوشگوار اور انسان دوست ماحول فراہم کریں جہاں صرف علم ہی نہیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، ہمدردی اور شہری ذمہ داری بھی پروان چڑھے، جبکہ تشدد، امتیازی سلوک، تضحیک اور بُلنگ کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔
خاندانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے صدر ٹو لام نے کہا کہ والدین، بزرگوں اور سرپرستوں کو بچوں کے لیے محبت، رہنمائی اور تحفظ کا اولین ذریعہ بننا چاہیے، جبکہ تربیت کے نام پر تشدد یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور تحفظ کو حقیقی قومی ترجیح بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے مؤثر پالیسیوں، وسائل اور جوابدہی کے نظام کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کوئی بھی بچہ ترقی کے سفر میں پیچھے نہ رہ جائے۔