
نیویارک میں این پی ٹی جائزہ کانفرنس: ویتنام کا جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تینوں ستونوں پر متوازن عملدرآمد کا مطالبہ
نیویارک، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے 11ویں جائزہ کانفرنس کے افتتاحی روز رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے تینوں بنیادی ستونوں پر سخت اور متوازن انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنائیں، جبکہ عالمی سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں اجتماعی عزم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویتنام کی نائب وزیرِ خارجہ لی تھی تھو ہانگ، جو اس اجلاس میں ویتنامی وفد کی سربراہ بھی ہیں، نے این پی ٹی کو عالمی سلامتی کے نظام کا ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل اور متوازن عملداری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ، عدم پھیلاؤ اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال پر یکساں توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کی خصوصی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں، اور باہمی اعتماد، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیں۔
ویتنام نے جامع جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کے جلد نفاذ اور جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے (ٹی پی این ڈبلیو) کی وسیع توثیق کی بھی حمایت کی۔ مزید برآں، ترقی پذیر ممالک کے لیے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال میں ان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیکنالوجی، مہارت اور مالی وسائل تک رسائی کو بڑھایا جائے۔
لی تھی تھو ہانگ نے ویتنام کی قومی سطح پر کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک نے 2035 تک جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے فروغ کے لیے حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا وژن 2050 تک محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام صحت، زراعت، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ این پی ٹی کی حمایت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرے اور آئندہ جائزہ مرحلے کے لیے ایک متوازن اور مؤثر اعلامیہ منظور کرے۔
11ویں این پی ٹی جائزہ کانفرنس، جس کی صدارت ویتنام کر رہا ہے، 27 اپریل سے 22 مئی تک جاری رہے گی، جس میں رکن ممالک کے درمیان مختلف موضوعات پر تفصیلی مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں شریک متعدد ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی سلامتی اور سیاسی ماحول گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ پیچیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے، خصوصاً تنازعات کے علاقوں میں کشیدگی اور جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے جوہری تباہی سے بچاؤ کے لیے این پی ٹی کے اہداف سے مضبوط وابستگی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔